تل ابیب: متنازع ڈاکومنٹری دی بی بی فائلز ایک بڑے قانونی اور سیاسی تنازع کی زد میں آگئی ہے، جس میں اسرائیل کے کرپٹ وزیر اعظم نیتن یاہو کی مبینہ پولیس تفتیشی ویڈیوز لیک ہونے کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متنازع ڈاکومنٹری دی بی بی فائلز جس میں 2016ء سے 2018ء کے دوران کے تفتیشی فوٹیج شامل ہیں، نیتن یاہو اور ان کے خاندان سے رشوت اور فراڈ کے الزامات پر ہونے والی پوچھ گچھ کو دکھایا گیا ہے، ان ویڈیوز میں کرپٹ اسرائیلی وزیر اعظم کو سخت لہجے میں سوالات کو بے بنیاد اور پاگل پن قرار دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی اہلیہ بھی اسی دوران پولیس پر شدید تنقید کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ ان کے بیٹے یائر نیتن نے اسرائیلی پولیس کو خفیہ پولیس سے تشبیہ دیتے ہوئے اس تحقیقات کو جادو ٹونا قرار دیا تھا۔ View this post on InstagramA post shared by Tucker Carlson (@tuckercarlson)رپورٹس کے مطابق یہ ڈاکومنٹری اسرائیل میں سخت پرائیویسی قوانین کے باعث سرکاری طور پر نشر کرنے پر پابندی کی زد میں ہے، مگر اس کے باوجود یہ سوشل میڈیا اور وی پی این کے ذریعے تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ کرپٹ اسرائیلی وزیر اعظم خطے میں جاری کشیدگی کو طول دے رہے ہیں تاکہ وہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں، جبکہ حالیہ عدالتی پیشی میں انہوں نے تمام الزامات کو مکمل جھوٹ قرار دیا ہے۔ڈاکومنٹری بنانے والوں نے کہا ہے کہ عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوششیں دراصل ممکنہ سزا سے بچنے کی حکمتِ عملی ہو سکتی ہیں، جس نے اسرائیلی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔