کٹھمنڈو (28 مارچ 2026): نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔روئٹرز کے مطابق نیپال کے سابق وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی کو ہفتہ کے روز گرفتار کر لیا گیا، پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا وہ گزشتہ ستمبر میں جین زی کے کرپشن مخالف مظاہروں کے دوران درجنوں ہلاکتوں کو روکنے میں غفلت برتنے کے مرتکب ہوئے یا نہیں۔سابق وزیر اعظم کے ہوم منسٹر رامیش لیکھک کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، کے پی شرما کو پولیس نے بھکتاپور میں ان کے گھر سے گرفتار کیا، دونوں رہنماؤں کو الگ الگ کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا۔ان گرفتاریوں سے محض ایک ہی دن قبل ریپر سے سیاست دان بننے والے بالیندر شاہ نے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا تھا، اور مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات کی تحقیقات کرنے والے نیپالی پینل نے دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کی سفارش کی تھی، اور کہا تھا کہ ان پر غفلت کے جرم میں مقدمہ چلانا چاہیے۔بھارتی بارڈر فینسنگ ٹیم پر باغیوں کا حملہ، متعدد بھارتی فوجی ہلاک اور زخمینیپالی پولیس کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں، مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ دو دن کے شورش کے دوران نیپال میں مجموعی طور پر 76 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اولی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔پولیس کے ترجمان کے مطابق اولی اور لیکھک دونوں کو کٹھمنڈو پولیس آفس میں رکھا گیا ہے اور انھیں اتوار کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو نیپال میں کام کا دن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رہنماؤں کو تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 74 سالہ اولی، جنھیں ماضی میں دو گردوں کے ٹرانسپلانٹ ہو چکے ہیں، بعد میں پولیس آفس سے اسپتال منتقل کر دیے گئے۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاری غیر ضروری تھی، کیوں کہ یہ تحقیق کے لیے ہے، یہ غیر قانونی اور نامناسب ہے کیوں کہ ان کے فرار ہونے یا تفتیش سے بچنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔تحقیقاتی پینل نے اولی کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیا کہ انھوں نے مظاہروں کے پہلے دن کے دوران ہونے والی گھنٹوں کی فائرنگ کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا، جس میں کم از کم 19 جین زی مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔