(28 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج امریکا بھر میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ’نو کنگز’ احتجاجی تحریک کے منتظمین نے کہا کہ تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے ترتیب دیے گئے ہیں اور امید ہے کہ یہ امریکی تاریخ کا ایک ہی دن میں ہونے والا سب سے بڑا پُرامن احتجاج ہوگا۔مرکزی ریلیاں نیویارک، لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور مینیسوٹا کے ٹوین سٹیز میں منعقد ہوں گی، تاہم منتظمین کے مطابق دو تہائی شرکاء بڑے شہروں کے مراکز سے باہر کے علاقوں سے ہوں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ جون میں ہونے والی پہلی متحرک مہم کے مقابلے میں چھوٹی کمیونٹیز کی شرکت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔’نو کنگز‘ تحریک شروع کرنے والی لیا گرین برگ نے کہا کہ اس ہفتے کے احتجاج کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ احتجاج کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کہاں احتجاج کر رہے ہیں۔امریکا میں اس سال کے آخر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئیڈاہو، وائیومنگ، مونٹانا اور یوٹاہ جیسی سخت ریپبلکن ریاستوں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد کو پروگرام ترتیب دیتے اور شرکت کیلیے رجسٹریشن کرواتے دیکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ووٹرز جو انتخابات کا فیصلہ کرتے ہیں، جو گھر گھر جا کر دستک دیتے ہیں اور ووٹر رجسٹریشن کا کام کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو احتجاج کو طاقت میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں وہ اس وقت سڑکوں پر ہیں اور وہ شدید غصے میں ہیں۔