ٹرمپ کے خلاف مظاہرے : ایران جنگ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، امریکی سینیٹر

Wait 5 sec.

منی سوٹا : ایران جنگ، امریکا میں باشاہت اور ٹرمپ کیخلاف بڑے پیمانے پر ’نو کنگز‘ مظاہرے ہوئے، مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف ’نوکنگز‘کے عنوان سے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ منی سوٹا میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز احتجاجی ریلی سے خطاب میں ٹرمپ پر برس پڑے۔نو کنگز مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ہمیں بادشاہت نہیں چاہیے، امریکا میں حق حکمرانی صرف عوام کا ہے کسی بادشاہ کا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جنگوں میں پیسہ ضائع نہیں کریں گے، مگر عملی طور پر اس کے برعکس کیا۔ ایران کے خلاف جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ کانگریس سے منظوری نہیں لی گئی اور یہ جنگ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جس پر مظاہرین نے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔اس موقع پر انہوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں، ایران جنگ اور معاشی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ایسا نظام مسلط کیا جا رہا ہے جہاں ایک فرد کی طاقت اور دولت قانون پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہمیں بادشاہت نہیں چاہیے، یہاں صرف عوام کی حکمرانی ہوگی۔برنی سینڈرز نے ایران جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام سے ویتنام اور عراق کی طرح ایران جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے، اس جنگ میں اب تک امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ہزاروں شہری جان سے جا چکے اور سینکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، کسی بھی خودمختار ملک پر بغیر جواز حملہ نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے واضح کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان جنگوں پر خرچ نہیں ہونا چاہیے۔سینیٹر سینڈرز نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت اقتدار میں آنے کے بعد تیزی سے بڑھی اور انہوں نے انتخابی وعدوں کے برعکس جنگوں پر بھاری رقم خرچ کی۔