سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو مشن 2027 کے لیے انتخابی میدان میں اترگئے ہیں۔ انھوں نے مغربی اترپردیش کے دادری میں ریلی کرکے گرجر برادری کو متاثر کرتے ہوئے اپنے خطاب میں گرجر سماج کے احترام کی علامات کو ترجیح دی اور حکومت بننے کی صورت میں راجدھانی لکھنؤ میں واقع گومتی ریورفرنٹ پر راجا میہر بھوج کا مجسمہ نصب کرنے کا وعدہ کیا۔اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے کر اتر پردیش کو بچانا ضروری: اکھلیش یادوگورجر-پرتیہار نسل کے 9 ویں صدی کے حکمران میہر بھوج نے شمالی ہندوستان کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی۔ وہ بھگوان وشنو سے اپنی عقیدت کے لیے بھی تاریخ میں درج ہیں۔ اکھلیش نے اپنی دادری ریلی کی شروعات گرجر پرتیہار نسل کے راجا مہر بھوج کے مجسمے کو گنگا جل چڑھا کر کی۔ اس دوران اکھلیش نے سماج وادی پارٹی کی حکومت بننے پر خواتین کو سالانہ 40 ہزار روپے دینے کے اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے آدھی آبادی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہمارے راجا (میہر بھوج) کی میراث بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔اسمبلی انتخابات کے لیے ضلع سطح پر تیار ہوگا انتخابی منشور: اکھلیش یادوواضح رہے کہ دادری اور آس پاس کے علاقوں میں گرجر اور راجپوت دونوں ذاتیں میہر بھوج کی وراثت کا دعوی کرتی رہی ہیں۔ ایس پی صدر نے یاد دلایا کہ سماج وادی حکومت کے دوران میہر بھوج کے نام پر ایک بڑا پارک بنایا گیا تھا۔ انہوں نے1857 کی جنگ میں کوتوال دھن سنگھ گرجر کے تعاون کو یاد کیا نسلی برادری کی تعریف کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔بتادیں کہ مغربی اتر پردیش کی 80-90 سیٹوں پر اس برادری کا خاصا اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔ مغربی اترپردیش کی کیرانہ، سہارنپور، بجنور، میرٹھ، گوتم بدھ نگر، باغپت اور امروہہ میں کبھی نہ کبھی گرجر برادری سے ایم پی رہ چکے ہیں۔ دادری کی ریلی کے بعد اکھلیش یادو 2027 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے پرجوش اور مطمئن نظر آئے۔ اس سے پہلے اکھلیش یادو نے آئین کے مسئلے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے جو گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس زیرقیادت عظیم اتحاد کی حلیف ایس پی کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوا تھا۔ اس ریلی سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے دوران اس مسئلے کو مزید پُزور طریقے سے اُٹھایا جائے گا۔