مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے 50 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں، نیویارک ٹائمز

Wait 5 sec.

نیویارک (30 مارچ 2026): امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، خطے میں امریکا کے پچاس ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک امریکی فوجی عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو ایران جنگ کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں ایک ماہ کے اندر تقریباً دس ہزار کا اضافہ ہے۔امریکی بحریہ اور میرین کور کے 3500 اہلکار پہلے ہی تعینات ہیں، گزشتہ ہفتے امریکی محکمۂ دفاع نے 2000 ایلیٹ فوجیوں کو بھی خطے میں بھیج دیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی زمینی جنگ میں برتری حاصل کرنے کے لیے یہ تعداد ناکافی ہے۔ پچاس ہزار فوجیوں کے ذریعے نہ تو ایران پر مکمل قبضہ ممکن ہے اور نہ ہی طویل عرصے تک کنٹرول برقرار رکھا جا سکتا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںخبر کے مطابق امریکی میرینز کے کئی حکام اور دستے علاقے میں پہنچ چکے ہیں، بشمول ہزاروں میرینز اور خصوصی آپریشن یونٹس، تاکہ صدر کے پاس ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کی صلاحیت موجود رہے۔ ایک امریکی بحری جہاز یو ایس ایس تریپولی اور اکتیسویں میرین ایکسپڈشنری یونٹ سمیت فوجی دستے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پہنچے ہیں، جس سے خطے میں امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔یورینیم نکالنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دن ایران میں رہنا پڑے گا، امریکی اخبارپینٹاگون ممکنہ زمینی آپریشن کے لیے منصوبے تیار کر رہا ہے جو کئی ہفتوں تک چل سکتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس کارروائی کی منظوری نہیں دی ہے۔ یہ زمینی کارروائی مکمل قبضہ یا جنگ کی طرح نہیں ہوگی بلکہ خاص مشنز یا محدود حملوں پر مبنی ہو سکتی ہے۔امریکا نے مزید سینکڑوں فوجی اہلکار بھی بھیجے ہیں تاکہ موجودہ میرینز اور پیرا ٹروپرز کی فوجی طاقت کو مضبوط کیا جا سکے۔ دوسری طرف ایران نے امریکی زمینی فوج داخل کرنے کی کسی بھی کوشش پر سخت ردعمل دینے کی دھمکی بھی جاری کی ہے، جس میں سخت نتائج کی وارننگ ہے۔