واشنگٹن (26 مارچ 2026): ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران جنگ کی حکمت عملی پر اختلافات پائے گئے ہیں، ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کی ایران میں عوامی بغاوت کی تجویز کو مسترد کیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دو امریکی حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم گزشتہ ہفتے ایرانی عوام سے اپیل کرنا چاہتے تھے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کریں، تاہم امریکی صدر نے انھیں بتایا کہ یہ اقدام بہت زیادہ خطرناک ہوگا۔نیتن یاہو نے فون کال پر ٹرمپ کو ایران میں بغاوت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں کہا کہ ایران میں بغاوت کی کال خطرے کا کام ہے، وہ تباہ ہو جائیں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے فون پر کہا: ’’ہم لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کیوں کہیں جب انھیں گولیوں سے بھون دیا جائے گا؟‘‘ایگزیوس کے مطابق امریکا اور اسرائیل جنگ کے بیش تر فوجی اہداف پر متفق ہیں، تاہم ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) اور اس کے لیے قابل قبول خوں ریزی اور افراتفری کے معاملے پر دونوں کا نقطۂ نظر مختلف رہا ہے۔امریکا میں ایران جنگ پر عوامی عدم اطمینان میں اضافہ، نئے سروے جارینیتن یاہو نے اسرائیل کے بنیادی اہداف میں عوامی بغاوت کے لیے حالات پیدا کرنا بھی شامل کیا، لیکن امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ حکومت کی تبدیلی کو ایک ’’اضافی فائدہ‘‘ سمجھتے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی کارروائیاں ختم ہونے کے بعد ایرانی عوام کو حکومت سنبھالنے کا موقع ملے گا، تاہم بعد میں انھوں نے اس مؤقف کو بار بار نہیں دہرایا۔گزشتہ منگل کو الگ الگ حملوں میں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ اور عملی طور پر قائم مقام رہنما علی لاریجانی، اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت قتل کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سلیمانی کو نشانہ بنانے کا مقصد عوامی بغاوت کی راہ ہموار کرنا تھا، کیوں کہ وہ احتجاج کو کچلنے کے ذمہ دار تھے۔چند گھنٹوں بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت انتشار کا شکار ہے اور اسے مزید کمزور کرنے کا موقع موجود ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ وہ اور ٹرمپ مل کر ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی مشترکہ اپیل کریں۔ اس موقع پر ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی اپیل بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا باعث بن سکتی ہے، کیوں کہ جنگ سے پہلے بھی ہزاروں ایرانی مظاہرین مارے جا چکے تھے۔ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ وہ اگلے دن ہونے والے ایرانی تہوار ’’چهارشنبه سوری‘‘ (نوروز سے قبل آگ جلا کر اس پر سے کودنے کا قدیم تہوار) کے دوران دیکھیں گے کہ آیا لوگ خود سڑکوں پر نکلتے ہیں یا نہیں۔ تاہم اس دوران نیتن یاہو نے خود عوامی بیان جاری کر دیا اور کہا ’’ہماری فضائیہ زمین پر، سڑکوں اور عوامی مقامات پر دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کا مقصد بہادر ایرانی عوام کو فیسٹیول آف فائر منانے کا موقع دینا ہے، لہٰذا باہر نکلیں اور جشن منائیں… ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘تاہم اگلے دن بہت کم ایرانی سڑکوں پر نکلے، جس کی وجہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے حکومت کے ردعمل کے خوف کو قرار دیا۔