واشنگٹن (26 مارچ 2026): ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکمت عملی اور مقاصد سے متعلق وضاحتوں کو ناکافی قرار دے دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق بریفنگ کے بعد قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے متعدد ارکان نے جنگ کے اہداف، مدت اور آئندہ لائحہ عمل پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا اور مزید فنڈنگ پر بھی سوالات اٹھے۔ریپبلکن رکن نینسی میس نے بریفنگ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے حقائق کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا گیا، اور انھوں نے واضح کیا کہ وہ مزید فنڈنگ کے حق میں ووٹ نہیں دیں گی۔دوسری جانب رکن کانگریس ڈیرک وین آرڈن نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ڈیموکریٹ رہنما ایڈم اسمتھ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے اعلان کردہ مقاصد اور ان پر عمل درآمد کے درمیان واضح فرق موجود ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ جیسن کرو نے کہا کہ کانگریس کو جنگی حکمت عملی اور اس کے ممکنہ اختتام سے متعلق واضح اور تسلی بخش جوابات نہیں دیے گئے۔ایران میں بغاوت برپا کرنے کی تجویز پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو کیا جواب دیا؟تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس میں بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ ایران جنگ پر داخلی سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مستقبل میں حکومتی پالیسی اور فنڈنگ کے فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ریپبلکن رکن نینسی میس نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی سخت مخالفت کروں گی، ٹرمپ انتظامیہ کی ایوان نمائندگان کو دی گئی بریفنگ عوامی بیانات سے مختلف ہے، ایران جنگ کے فوجی مقاصد اور عوام کو بتائے گئے حقائق میں تضاد ہے، میں امریکی فوجیوں کی ایران میں موجودگی کے لیے کسی فنڈنگ کی حمایت نہیں کروں گی۔