برسلز (26 مارچ 2026): کشمیری رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو دہلی کی عدالت نے ممنوعہ تنظیم کی قیادت کرنے اور ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے، اور ان کی 2 ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو 30-30 سال کی سزا سنائی گئی۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں کو تیس تیس سال قید کی سزا پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزائیں بھارتی ریاستی دہشت گردی ہے، بھارتی عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے انصاف کا قتل کیا ہے اور انسانی حقوق پامال کیے ہیں۔علی رضا سید نے کہا بھارت مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آوازیں دبا رہا ہے، عالمی ادارے کشمیری خواتین کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دینے کا فوری نوٹس لیں۔انھوں نے کہا یاسین ملک اور خرم پرویز سمیت متعدد سیاسی رہنما بھارتی جیلوں میں قید ہیں، بھارتی ظلم اور بربریت سے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو نہیں دبایا جا سکتا۔صدر ٹرمپ ایران میں مزید اموات اور تباہی نہیں دیکھنا چاہتے، کیرولائن لیوٹدریں اثنا، دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کشمیری رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی کی عدالت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت سنایا گیا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے کہا پاکستان اس فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کے وسیع تر سلسلے کا حصہ سمجھتا ہے جس کا مقصد اختلافی آوازوں کو دبانا اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے شفاف قانونی عمل، عدلیہ کی آزادی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔