تل ابیب خالی کرنے کی تیاری؟ اسرائیلی سیاست دانوں نے محفوظ ٹھکانوں کی تلاش شروع کر دی

Wait 5 sec.

تل ابیب (26 مارچ 2026): ایران کے ممکنہ بیلسٹک میزائل حملوں کے خطرے نے اسرائیلی سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جہاں اب رہنماؤں نے ملک چھوڑ کر متبادل محفوظ مقامات تلاش کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیو اینڈ وائٹ پارٹی سے وابستہ سیاست دان ایوری اسٹینر نے ایک غیر معمولی تجویز پیش کی ہے، جس میں یونان کے 40 غیر آباد جزائر خرید کر انھیں یہودیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ تجویز ایران کے میزائل خطرے کے پیش نظر سامنے آئی ہے، جہاں ان جزائر کو ایک ’’متبادل آئرن ڈوم‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اسرائیلی شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔صدر ٹرمپ ایران میں مزید اموات اور تباہی نہیں دیکھنا چاہتے، کیرولائن لیوٹذرائع کا کہنا ہے کہ یونان کی جانب سے 2012 میں متعدد جزائر طویل مدت کے لیے لیز پر دینے کی پیشکش بھی اس منصوبے کو تقویت دے رہی ہے، جس کے باعث یہ تجویز اب سنجیدگی سے زیر غور ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال کا ایک غیر معمولی اور تاریخی قدم ہو سکتا ہے۔