جنیوا(26 مارچ 2026): اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایرانی حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا ر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر منعقدہ ہنگامی اجلاس کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کی حمایت 100 سے زائد ممالک نے کی ہے۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے اس موقع پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یو اے ای نے خاص طور پر ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ یہ حملے ان ممالک پر کیے گئے جو کسی تنازع کا حصہ نہیں تھے۔یو اے ای وزارت خارجہ نے قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی کے عمل میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کشیدگی سے عالمی تجارت، توانائی کا تحفظ اور رسد کا نظام (سپلائی چین) متاثر ہو رہا ہے، متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے اور اشتعال انگیزی بند کرے اور متاثرین کو فوری و مکمل معاوضہ ادا کرے، سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ملکوں کی جانب سے قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔