نیرو مودی کے بچنے کی کوشش ناکام، حوالگی کا راستہ ہوا صاف، لندن ہائی کورٹ نے خارج کی عرضی

Wait 5 sec.

لندن ہائی کورٹ نے نیرو مودی کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیرو مودی نے ہندوستان میں اپنی حوالگی کے معاملے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہندوستان میں اس پر 13000 کروڑ کے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) گھوٹالے میں ملوث ہونے کے الزام ہیں۔ نیرو مودی جو ایک مفرور ہیرا کاروباری ہے، اس نے اپنی حوالگی کو چیلنج دینے کے لیے ہائی کورٹ آف جسٹس، کنگس بنچ ڈویژن کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔STORY | UK court rejects Nirav Modi's petition to reopen case against extradition to IndiaThe London High Court on Wednesday rejected the petition of fugitive diamantaire Nirav Modi to reopen his case against his extradition to India, where he is wanted in connection with the… pic.twitter.com/MFhEwx5fCh— Press Trust of India (@PTI_News) March 25, 2026اس معاملے پر کراؤن پراسیکیوشن سروس کے وکیل نے زوردار بحث کی، جس میں انہیں سی بی آئی کی ایک مخصوص ٹیم کا بھی مکمل تعاون حاصل رہا۔ اس ٹیم میں وہ تفتیشی افسران بھی شامل تھے جو سماعت کے لیے خاص طور پر لندن گئے تھے۔ مودی کی درخواست اسلحہ ڈیلر سنجے بھنڈاری کے معاملے میں آئے فیصلے پر مبنی تھا۔ حالانکہ سی بی آئی کی مربوط کوششوں نے اس چیلنج پر کامیابی سے قابو پا لیا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مودی کی عرضی اور اس سے وابستہ حالات اتنے غیر معمولی نہیں تھے کہ معاملہ کو پھر سے کھولا جائے۔واضح رہے کہ سی بی آئی 2018 سے ہی نیرو مودی کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے، کیونکہ وہ ایک سرکاری بینک سے منسلک بڑے مالیاتی گھوٹالے میں شامل تھا۔ برطانیہ کی عدالتوں نے 2019 میں اس کی گرفتاری کے بعد اس کی حوالگی کو منظوری دے دی تھی اور تب سے اس نے گزشتہ تمام اپیلوں کو خارج کر دیا ہے۔ اس نے قانونی رکاوٹوں کو دور کر لیا ہے اور ہندوستان میں اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں دی گئی یقین دہانی کو قبول کر لیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ نیرو مودی پر اپنے ماموں میہول چوکسی کے ساتھ مل کر پی این بی کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کا الزام ہے۔ صرف نیرو مودی پر ہی 6498.20 کروڑ روپے کے غبن سے جڑے الزامات ہیں۔ اس قانونی جنگ کا مثبت نتیجہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہندوستانی حکومت کی مسلسل کوششوں اور عزم کو واضح کرتا ہے۔