رپورٹ : ڈاکٹر سید حسن رضا نقویتہران : ایران میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ میزائل حملوں کے بعد مختلف شہروں کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال ابتر ہے، تاہم تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔بڑھتے ہوئے دباؤ اور اندرونی چیلنجز کے باعث ایران اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، تاہم بنیادی سوال یہی ہے کہ ایران میں اس وقت درحقیقت کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ایرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس کے خلاف؟۔اس حوالے سے ایک ایرانی شہری نے اپنے کیمرے کے ذریعے گزشتہ رات تہران میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تازہ صورتحال سے اے آر وائی نیوز کو آگاہ کیا۔زیر نظر ویڈیو میں شہری نے اپنے علاقے کا تازہ جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رات ہونے والے حملوں کے باوجود مختلف علاقوں میں دکانیں معمول کے مطابق کھلی ہوئی ہیں اور شہری زندگی کسی حد تک جاری ہے، تاہم گلیوں اور پارکوں میں لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ نوروز کی تعطیلات اور لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں میں واپسی بھی ہو سکتی ہے لیکن فضا میں کسی حد غیریقینی کی صورتحال بھی برقرار ہے۔شہری نے ایک دکاندار سے علیک سلیک بھی کی، پس منظر میں ریڈیو کی آواز سنائی دے رہی ہے جسے وہ جنگ کی تازہ صورتحال سے باخبر رہنے کیلیے سنتا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں ویڈیو کے ایک منظر میں ایک ایسے گھر کی نشاندہی کی گئی جہاں علی رضا نامی شخص رہائش پذیر تھا، اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ علی رضا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر میں ملازمت کرتے تھے اور حالیہ حملے میں شہید ہوگئے۔شہری نے اس گھر کے دروازے پر دستک دی تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہلِ خانہ ممکنہ طور پر اپنے آبائی علاقے منتقل ہوچکے ہیں۔مذکورہ ویڈیو سے مجموعی طور پر یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تہران میں معمولاتِ زندگی جزوی طور پر برقرار ہیں، تاہم حالات میں غیر یقینی اور تشویش کا عنصر نمایاں ہے۔