باقر قالیباف کا امریکا پر دوہری پالیسی کا الزام

Wait 5 sec.

تہران (29 مارچ 2026): ایران نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ عوامی طور پر تو امن مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو امریکا پر دوہری پالیسی کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست زمینی تصادم کے لیے تیار ہے، انھوں نے کہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی پیش رفت کو ایک پردے کے طور پر استعمال کر کے ممکنہ حملے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔محمد باقر قالیباف نے کہا دشمن بظاہر بات چیت کا پیغام دے رہا ہے مگر پس پردہ گراؤنڈ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، ایرانی فوج مکمل تیار ہے، امریکی فوجیوں کی آمد کا بے صبری سے انتظار ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سے جاری یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جنگ ایک نازک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ قالیباف، جو پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، نے واشنگٹن کو زمینی فوجی تعینات کرنے سے باز رہنے کی وارننگ دی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںقالیباف نے تہران میں قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’دشمن کھل کر مذاکرات کا پیغام بھیج رہا ہے اور خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ہمارے جوان امریکی فوجیوں کے زمین پر پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انھیں جلا دیں۔‘‘قالیباف کے یہ الفاظ صدر ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کا براہِ راست ردعمل تھے، جن میں ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا ایرانی قیادت کے ایک ’’بہت معزز‘‘ شخص کے ساتھ ’’انتہائی مفید اور پیداواری‘‘ بالواسطہ بات چیت میں مصروف ہے۔ٹرمپ نے توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا عندیہ دیا تھا تاکہ ممکنہ ’’مکمل حل‘‘ کی راہ ہموار ہو سکے، تاہم ایرانی اسپیکر نے اسے ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کرنے اور فوجی تعیناتی کے لیے وقت خریدنے کی کوشش قرار دیا۔تہران میں یہ شبہ حالیہ امریکی فوجی اقدامات سے مزید تقویت پکڑ گیا ہے۔ ہفتے کے آخر میں یو ایس ایس تریپولی مغربی ایشیا میں تقریباً 3,500 میرینز اور سیلرز کے ساتھ پہنچا ہے، جس کے ساتھ اسٹرائک کرنے والے لڑاکا طیاروں کا دستہ بھی تھا۔ اطلاعات ہیں کہ پینٹاگون ایرانی ساحلی مقامات، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب محدود زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔