مودی کے دوست ٹرمپ کے ذریعہ پاکستان کو غیر معمولی اہمیت دیا جانا حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی: کانگریس

Wait 5 sec.

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس پاکستان کو سابق امریکی صدور نے کوئی اہمیت نہیں دی تھی، اسے ٹرمپ اس قدر اہمیت دے رہے ہیں اور وزیر اعظم مودی اپنے دوست کو روک بھی نہیں پا رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پاکستان کے متعلق لکھا کہ ’’یہ ایک ایسا ملک ہے، جہاں جمہوریت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کی معیشت بدحال ہے اور جو آئی ایم ایف سمیت چین اور سعودی عرب جیسے چند دیگر امداد دینے والے ممالک کی جانب سے ملی لائف لائن پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جسے دہائیوں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر جانا جاتا رہا ہے، جو نہ صرف اپنے پڑوسیوں پر بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں حملے کرتے ہیں۔‘‘यह एक ऐसा देश है, जहाँ लोकतंत्र एक मज़ाक बनकर रह गया है।यह एक ऐसा देश है, जिसकी अर्थव्यवस्था बदहाल है और जो IMF तथा चीन और सऊदी अरब जैसे कुछ अन्य दाताओं से मिली जीवनरेखा पर निर्भर है।यह एक ऐसा देश है, जिसे दशकों से आतंकवादियों के पनाहगाह के रूप में जाना जाता रहा है, जो न केवल…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) March 29, 2026کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ امریکی صدر کلنٹن، بش، اوبامہ اور بائیڈن نے انتہائی سختی سے برتاؤ کیا تھا۔ اب نومبر 2008 میں ممبئی میں اپنے دہشت گردانہ حملے کے بعد الگ تھلگ پڑ جانے کے باوجود پاکستان کو ایک نئی قبولیت حاصل ہو گئی ہے۔‘‘ جے رام رمیش نے وزیر خارجہ کے بیان کا اعادہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ڈاکٹر ایس جے شنکر کے الفاظ میں پاکستان کا ’دلال‘ بن جانا آپریشن سندور میں ہندوستان کی شاندار فوجی کامیابی کے بعد مودی حکومت کی خارجہ پالیسی، سفارتی سرگرمی اور بیانیہ کے انتظام کی زبردست ناکامی کو دکھاتا ہے۔‘‘جے رام رمیش نے آگے لکھا کہ ’’بلاشبہ صدر ٹرمپ (جو وزیر اعظم مودی کے اچھے دوست بتائے جاتے ہیں) نے پاکستان کی موجودہ قبولیت بڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم مودی نے ایسا کیوں اور کیسے ہونے دیا، جبکہ وہ ستمبر 2019 میں ہیوسٹن کے ’ہاؤڈی مودی‘ اور فروری 2020 میں احمدآباد کے ’نمستے ٹرمپ‘ پروگرام کے ذریعہ وائٹ ہاؤس سے اپنے خصوصی تعلقات کی تشہیر کرتے رہے ہیں۔‘‘وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جے رام رمیش نے لکھا کہ ’’وزیراعظم نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کئی طریقے اپنائے۔ یہاں تک کہ جس تجارتی معاہدے نے ہندوستانی زرعی منڈیوں میں امریکہ کو غیر معمولی رسائی دی اور جسے ہندوستان کے کسانوں کے ساتھ دشمنی اور دھوکہ سمجھا گیا، وہ بھی انہیں امریکہ سے کوئی سفارتی فائدہ دلانے میں مدد نہ کر سکا۔ انہیں محض ایک دبنے والے اور کمزور لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’وزیراعظم دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے لیڈروں سے مسلسل فون پر بات کر رہے ہیں۔ یہ یقیناً اچھی بات ہے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی حد سے زیادہ شخصیت پر مبنی خارجہ پالیسی کے بکھرنے نے خود ساختہ ’وشو گرو‘ کی ’وشو فونی‘ کی قلعی کھول دی ہے۔‘‘