’اب ایک کمزور ایران ہمارے سامنے ہے‘

Wait 5 sec.

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں اپنے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پُرعزم ہے۔الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ کو مستقل خطرات سے بچانے کیلئے شروع کی گئی، ایران نے ان ملکوں کی توانائی کی تنصیبات کوبھی نشانہ بنایاجوجنگ کا حصہ نہیں، سفارت خانوں ،ہوائی اڈوں  پر حملےجیسی مثالیں دنیا میں کہیں نہیں ملتیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار استحکام کا واحد راستہ ایران کےمیزائل اور ڈرون اثاثوں کو تباہ کر دیا جائے، پائیدار استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ایران مستقبل میں پڑوسیوں پر حملوں کے قابل نہ رہے۔مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ ایران کو مزید وقت ملتا تو اس کے میزائل اور ڈرون ناقابل برداشت خطرہ بن جاتے یہ کارروائی ناگزیر تھی اور اب ایک کمزور ایران ہمارے سامنے ہے۔انہوں نے بتایا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اتحادی ممالک پر حملوں کےخلاف ان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے، سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنانا ثبوت ہے کہ موجودہ ایرانی نظام عالمی قوانین کی پرواہ نہیں کرتا اس خطرے کا جڑ سے خاتمہ ہی بہترین حل ہے۔