مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر: ہندوستان کے بڑے شہروں میں گھروں کی فروخت میں گراوٹ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب ہندوستان کے رئیل اسٹیٹ بازار میں بھی صاف طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے سات بڑے شہروں میں گھروں کی فروخت میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے، جس نے ڈیولپرز اور سرمایہ کاروں دونوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔رئیل اسٹیٹ ریسرچ ادارے ایناراک کی تازہ رپورٹ کے مطابق، 2026 کی پہلی سہ ماہی میں گھروں کی فروخت میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے تقریباً 7 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ گھروں کی فروخت ہوئی، جن کی مجموعی مالیت قریب ایک لاکھ 51000 کروڑ روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی آخری سہ ماہی میں ایک لاکھ 8972 یونٹ فروخت ہوئے تھے، جن کی قیمت تقریباً ایک لاکھ 60000 کروڑ روپے تھی۔رپورٹ کے مطابق مجموعی فروخت کا تقریباً 48 فیصد حصہ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن اور بنگلورو سے آیا، جس سے ان شہروں کی مارکیٹ میں مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے، اگرچہ یہاں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ ممبئی میں سب سے زیادہ 32 ہزار 800 گھروں کی فروخت درج کی گئی، جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں چھ فیصد کم ہے۔ اسی طرح بنگلورو میں فروخت پانچ فیصد گھٹ کر 16440 یونٹ تک پہنچ گئی۔پونے میں سب سے زیادہ نمایاں گراوٹ دیکھی گئی جہاں فروخت میں دس فیصد کمی آئی اور پندرہ ہزار تین سو گھروں کی خرید و فروخت ہوئی، جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد سترہ ہزار تھی۔ دہلی این سی آر میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں رہی، جہاں فروخت میں آٹھ فیصد کی کمی درج کی گئی اور یونٹس کی تعداد گھٹ کر پندرہ ہزار ایک سو نوے رہ گئی۔ایران-اسرائیل کشیدگی میں شدت، عالمی منڈی میں خام تیل 7 فیصد سے زائد مہنگادوسری جانب حیدرآباد میں بازار تقریباً مستحکم رہا اور فروخت میں معمولی فرق کے ساتھ بارہ ہزار چار سو پچیس یونٹ ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم چنئی میں سب سے زیادہ اٹھارہ فیصد کی گراوٹ سامنے آئی، جہاں فروخت پانچ ہزار تین سو دس یونٹ تک محدود رہی۔ کولکاتا میں بھی آٹھ فیصد کمی کے ساتھ فروخت چار ہزار دو سو دس یونٹ تک پہنچ گئی۔ڈالر کے مقابلے تاریخی نچلی سطح پر پہنچا روپیہ، 94.28 تک گراوٹماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر مغربی ایشیا میں کشیدگی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شرح سود، مہنگائی اور معاشی دباؤ جیسے عوامل بھی خریداروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں رئیل اسٹیٹ بازار مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔