تہران (27 مارچ 2026): ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے حملوں کی نئی لہر میں حیفا میں بحری اور ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ایرانی فوج نے مقبوضہ علاقوں میں ڈرون حملے کیے، اسرائیلی حکومت کے متعدد حساس مقامات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فوج میں اہلکاروں کی شدید کمی کے معاملے پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے گزشتہ رات سکیورٹی کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے دوران اعلیٰ حکام کو خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل مطالبات اور اہلکاروں کی کمی کے باعث فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔چینل 13 نیوز کے مطابق ایال زامیر نے اجلاس میں موجود وزرا کو بتایا کہ میں آپ کے سامنے خطرے کے 10 جھنڈے لہرا رہا ہوں۔ان کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کو اس وقت بھرتی کے قانون، ہنگامی فوج کے قانون اور لازمی سروس کی مدت میں توسیع کے قانون کی اشد ضرورت ہے، بہت جلد فوج اپنے معمول کے مشن کیلیے تیار نہیں ہوگی اور اضافی نفری کا نظام جواب دے جائے گا۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںواضح رہے کہ جنوری میں انہوں نے نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک خط لکھا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اہلکاروں کی کمی مستقبل قریب میں فوجی تیاریوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔