ایل پی جی گیس کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ’جگ وسنت‘ نامی گیس بردار جہاز کامیابی کے ساتھ گجرات کی کانڈلا بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔ اس جہاز میں 42 ہزار میٹرک ٹن سے زائد مائع پیٹرولیم گیس موجود ہے، جو ملک میں توانائی کی دستیابی کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔یہ جہاز آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچا، جہاں حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کو لے کر غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں اس بڑی کھیپ کی آمد کو نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔ بندرگاہ حکام کے مطابق اسی روز مڈ سی ٹرانسفر کے ذریعے گیس کو منتقل کیا جائے گا تاکہ جلد از جلد سپلائی کا عمل شروع ہو سکے۔مڈ سی ٹرانسفر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں سمندر ہی میں جہاز سے گیس کو دوسرے نظام یا بندرگاہی سہولیات تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ سپلائی کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو پہنچتا ہے۔ایل پی جی بحران کے دوران چھاپے ماری اور سلنڈر ضبطی جاری پھر بھی لوگ سڑکوں پر، کئی ریسٹورنٹ اور انڈسٹری بنداس بڑی مقدار میں ایل پی جی کی آمد ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی منڈی میں توانائی کی ترسیل میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کھیپ سے ملک میں گھریلو استعمال کے لیے گیس کی دستیابی مزید مستحکم ہوگی اور آئندہ دنوں میں سپلائی کا نظام بہتر انداز میں چلایا جا سکے گا۔کانڈلا بندرگاہ کو ہندوستان کے اہم ترین توانائی درآمدی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سے گیس مختلف ریاستوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کھیپ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی سپلائی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی۔گیس بحران کے درمیان حکومت کا فیصلہ، پی این جی کنکشن رکھنے والوں کو اب نہیں ملے گی ایل پی جیادھر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستان کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی اہم تیل اور گیس بردار جہاز محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچے ہیں۔ اسی سلسلے میں حالیہ دنوں میں متعدد ٹینکر بھی ہندوستانی بندرگاہوں تک پہنچ چکے ہیں، جس سے توانائی کی ترسیل کا سلسلہ برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔