تہران(26 مارچ 2026): ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے تہران میں اسرائیل اور مبینہ ‘دہشت گرد گروپوں’ سے تعلق کے الزام میں 39 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں بتایا کہ گرفتار شدگان میں سے 27 افراد کا تعلق دو مختلف گروہوں سے ہے جنہیں ریاست نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ بیان کے مطابق ایک مشتبہ شخص پر الزام ہے کہ اس نے صوبہ سیستان و بلوچستان میں قبضے میں لیے گئے اسلحے کی مدد سے ایک آپریشنل سیل قائم کرنے کی کوشش کی۔کارروائی کے دوران حکام نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور تخریبی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں 49 دیسی ساختہ بم، دو کلاشنکوف رائفلیں، 16 ہینڈ گنز، 50 میگزین اور 1500 سے زائد گولیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹن گنز، آنسو گیس، مولوٹوف کاک ٹیلز، دھماکہ خیز مواد اور اسٹار لنک کے سات سیٹلائٹ آلات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔ایرانی وزارت انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے دو پر آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کا الزام ہے، جبکہ دیگر پر سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت اور مقامات کی جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب 28 فروری سے جاری امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک 1,340 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔تہران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل سمیت اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جس سے جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں اور ہوائی سفر کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔