منشیات کی اسمگلنگ میں پنجاب سرفہرست، گزشتہ 3 سالوں میں ہوا ریکارڈ اضافہ، اینٹی ڈرون سسٹم شروع

Wait 5 sec.

 پنجاب میں منشیات کی اسمگلنگ کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے اور اس معاملے میں ریاست اب ملک میں پہلے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ 3 برسوں میں منشیات کی اسمگلنگ میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں 1.16 لاکھ کلو گرام منشیات پکڑی گئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔رپورٹ میں انکشاف ہو ہے کہ پاکستان سے متصل سرحد کے گاؤں اسمگلروں کے نشانے پرہیں۔ ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے سرحد پار سے منشیات کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے جس سے سیکورٹی ایجنسیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پنجاب کی 553 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد سے ملحق امرتسر، ترن تارن، گورداسپور، پٹھان کوٹ، فیروز پور اور فاضلکا اضلاع اسمگلنگ کے اہم راستے بنتے جا رہے ہیں۔تریپورہ: عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 4 لوگوں کو دی سزااعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 47,475 کلوگرام اور 2024 میں 46,227 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی تھی لیکن 2025 میں اس میں بھاری اضافہ ہوا اور یہ اندازہ 1.16 لاکھ کلوگرام تک پہنچ گیا۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی رپورٹ کے مطابق سرحدی اضلاع میں ڈرون کے ذریعے اسمگلنگ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔راجستھان سرحد کے قریب دو پاکستانی درانداز ہلاک، منشیات کی اسمگلنگ کا امکاناس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں 2024 میں 5,708 کلوگرام اور 2025 میں 4,491 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔ وہیں گجرات میں 2024 میں 20,971 کلوگرام اور 2025 میں 22,758 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔ راجستھان میں کل برآمدگی زیادہ ہونے کے باوجود وہاں کیسز کی تعداد کم درج کی گئی ہے جبکہ پنجاب میں حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ این سی بی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کی سرحد سے منشیات کے ساتھ ساتھ اسلحہ، گولہ بارود اور جعلی کرنسی کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سرحدی علاقوں میں اے کے -47 ،اے کے۔ 56 رائفلیں، آرڈی ایکس اور غیر ملکی ہتھیار برآمد کیے جا رہے ہیں، جو سیکورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔بتا دیں کہ پنجاب حکومت نے ڈرون اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ترن تارن میں اینٹی ڈرون سسٹم شروع کر دیا ہے۔  51.41 کروڑ روپئے کی لاگت سے 9 جدید ترین نظام نصب کیے گئے ہیں جو ڈرونز اور اس کے کنٹرول اسٹیشن کی لوکیشن کا پتہ لگاکر ریئل ٹائم الرٹس فراہم کرتے ہیں۔ تاہم اسمگلر مسلسل نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے نگرانی بڑھا دی ہے لیکن سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ پر مکمل کنٹرول ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔