نیویارک: ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ انجلینا جولی نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف اداکارہ انجلینا جولی نے انسٹاگرام پر ایک 26 سالہ فلسطینی خاتون کا نہایت درد بھرا خط شیئر کیا جس میں جنگ کے دوران عام لوگوں، خصوصاً خاندانوں کو درپیش مشکلات کو دل سوز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جولی نے بچوں کی تصاویر اور اس خط کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔ خط لکھنے والی خاتون، جو گولہ باری میں اپنے والد کو کھو چکی ہیں، اب اپنے مفلوج جڑواں بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خیمے میں زندگی بسر کررہی ہے۔ View this post on Instagram A post shared by Angelina Jolie (@angelinajolie)جولی نے لکھا ”خاتون نے مجھے بتایا کہ اس کے لیے اس کے خاندان اور اس کے پڑوسیوں کے لیے روزمرہ زندگی کیسی ہے۔ میں یہ حقیقت سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی۔ ان کی مشکلات بدستور جاری ہیں، مگر دنیا کی توجہ دیگر سانحات کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔خط میں بنیادی ضروریات کے حصول کی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جیسے شدید حالات میں پانی لانا، خیراتی کچن سے کھانے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا، اور تعلیمی اداروں کی بندش کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔خاتون نے لکھے گئے خط میں بتایا کہ بہت سے بچے یہ بھی بھول چکے ہیں کہ اسکول کیسا ہوتا ہے، قلم کیسے پکڑا جاتا ہے، یا کاپیوں میں رنگ کیسے بھرے جاتے ہیں۔ ان کے خواب اب صرف ایک لیٹر پانی یا ایک پلیٹ کھانے تک محدود ہو چکے ہیں۔خاتون نے آگ، زہریلی گیسوں، تباہ شدہ اسپتالوں، ادویات کی کمی، بجلی کے بحران اور ایندھن کی قلت جیسے سنگین مسائل کا بھی ذکر کیا۔ تاہم ان تمام تر مشکلات کے باوجود امید کی ایک کرن باقی ہے۔غزہ یا پھر اجتماعی قبر؟ انجیلینا جولی امریکا اور اسرائیل پر برس پڑیںغزہ کے مظلومین اب بھی زندگی اور خوشی کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں، وہ اس یقین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کہ ایک دن ایک بہتر اور زیادہ روشن مستقبل ضرور آئے گا۔