واشنگٹن (26 مارچ 2026): امریکا میں مختلف سروے رپورٹس بتاتے ہیں کہ عوام میں ایران جنگ سے متعلق عدم اطیمنان بڑھتا جا رہا ہے.اے پی نیوز کے مطابق ایک تازہ پول میں واضح ہوا ہے کہ امریکا میں اکثریت (زیادہ تر عوام) کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ’’زیادہ دور تک جا چکی ہے‘‘ اور اسے روکا جانا چاہیے۔پول کے نتیجے کے مطابق تقریباً 59 فی صد امریکیوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی بہت آگے جا چکی ہے، اور ایران پر فوجی کارروائی غلط فیصلہ تھا، جب کہ صرف 26 فی صد نے اس جنگ کو ’’مناسب‘‘ قرار دیا اور 13 فی صد نے کہا کہ کارروائی ’’کافی نہیں گئی۔‘‘سروے کے مطابق 61 فی صد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی ایران پالیسیوں سے ناخوش ہیں، 61 فی صد شہریوں کا خیال ہے ٹرمپ ایران میں کارروائی کو سنبھال نہیں پا رہے، 45 فیصد شہریوں کے مطابق ایران میں امریکی کارروائی بہترنہیں جا رہی۔امریکا نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دیسروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 62 فی صد امریکی زمینی فوجی دستے ایران میں تعینات کرنے کے خلاف ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام بڑے پیمانے پر جنگی مداخلت کے مخالف ہیں۔ایک اور سروے کوئن پیئک پول کے مطابق 54 فی صد شہریوں نے ایران جنگ کی مخالفت کی، 39 فی صد ووٹرز نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی، 92 فی صد ڈیموکریٹ ووٹرز ایران جنگ کے خلاف ہیں، 64 فی صد آزاد ووٹرز بھی ایران جنگ کی مخالفت میں شامل ہیں، جب کہ 86 فی صد ریپبلکن ووٹرز ایران کے خلاف کارروائی کے حامی نکلے۔مزید برآں، 55 فی صد ووٹرز کا خیال ہے کہ ایران امریکا کے لیے فوری فوجی خطرہ نہیں تھا، جس کے بعد شروع کی جانے والی کارروائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پول کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہریوں کو خدشہ ہے کہ یہ جنگ طویل ہو سکتی ہے اور اس کے معاشی اثرات، خصوصاً تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر بوجھ ڈالیں گے۔