انل امبانی سے متعلق بینک فراڈ کیس میں سست جانچ پر سپریم کورٹ برہم، غیر جانبدار اور بروقت تحقیقات کا حکم

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے انل دھیر و بھائی امبانی گروپ سے جڑے مبینہ بینکنگ فراڈ معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس طرح کی تاخیر کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں غیر جانبدار، شفاف اور وقت بندھی جانچ کو یقینی بنائیں تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت یہ طے نہیں کر سکتی کہ کس کی گرفتاری ضروری ہے، لیکن تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے دکھائی جانے والی سستی اور عدم دلچسپی تشویش کا باعث ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ جانچ کا عمل ایسا ہونا چاہیے جس سے نہ صرف عدالت بلکہ عام شہریوں کو بھی انصاف کے نظام پر بھروسہ ہو۔اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے دونوں ایجنسیوں کو آپس میں بہتر تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تحقیقات کو آگے بڑھائیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جانچ کسی بھی طرح کے تعصب یا دباؤ سے آزاد ہونی چاہیے تاکہ حقائق پوری دیانت داری کے ساتھ سامنے آ سکیں۔عدالت نے تمام متعلقہ مالیاتی اداروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اگر کسی ادارے کی جانب سے تعاون میں کمی پائی جاتی ہے تو ایجنسی کو اس کی اطلاع براہ راست عدالت کو دینے کی اجازت دی گئی ہے۔سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسران پر مشتمل ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے اور اب تک چار گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے کسی کی گرفتاری ممکن نہیں، تاہم جانچ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریباً پندرہ ہزار کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کی جا چکی ہے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب درخواست گزار کی طرف سے پیش سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ اب تک صرف نچلی سطح کے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جبکہ بڑے ذمہ داران کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔تمام فریقین کی دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تحقیقات کو مزید تیز کریں اور ضرورت پڑنے پر پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی ہے اور واضح کیا ہے کہ شفاف اور جواب دہ جانچ ہی انصاف کی بنیاد ہے۔