(26 مارچ 2026): اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فوج میں اہلکاروں کی شدید کمی کے معاملے پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے گزشتہ رات سکیورٹی کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے دوران اعلیٰ حکام کو خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل مطالبات اور اہلکاروں کی کمی کے باعث فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔چینل 13 نیوز کے مطابق ایال زامیر نے اجلاس میں موجود وزرا کو بتایا کہ میں آپ کے سامنے خطرے کے 10 جھنڈے لہرا رہا ہوں۔یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج ایرانی کلسٹر بموں سے پریشان ہوگئیان کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کو اس وقت بھرتی کے قانون، ہنگامی فوج کے قانون اور لازمی سروس کی مدت میں توسیع کے قانون کی اشد ضرورت ہے، بہت جلد فوج اپنے معمول کے مشن کیلیے تیار نہیں ہوگی اور اضافی نفری کا نظام جواب دے جائے گا۔واضح رہے کہ جنوری میں انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام کو ایک خط لکھا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اہلکاروں کی کمی مستقبل قریب میں فوجی تیاریوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث اسرائیلی فوج نے بارہا قانون سازوں کو بتایا کہ جنگی دباؤ اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے اسے 12 ہزار فوجی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔دوسری جانب، قدامت پسند (الٹرا آرتھوڈوکس) جماعتیں ایسا قانون بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں جس سے ان کے ووٹرز کو فوج میں شامل نہ ہونا پڑے۔یہ مطالبہ جون 2024 میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ مخصوص طلبہ کو دہائیوں سے حاصل فوجی استثنیٰ کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔اس وقت 18 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 80 ہزار قدامت پسند یہودی فوجی سروس کے اہل سمجھے جاتے ہیں لیکن انہوں نے خود کو فوج میں بھرتی کیلیے پیش نہیں کیا۔