ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کی جانچ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد کیرالہ، آسام اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں امیدواروں کی حتمی تعداد سامنے آ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک افسر کے مطابق کیرالہ میں 985، آسام میں 789 اور پڈوچیری میں 366 امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں جو 9 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔افسر نے بتایا کہ نامزدگیوں کی جانچ کے بعد یہ فہرست تیار کی گئی ہے، تاہم اگر کوئی امیدوار مقررہ مدت کے اندر اپنا نام واپس لیتا ہے تو اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ نام واپس لینے کی آخری تاریخ سے پہلے اگر کسی امیدوار نے دستبرداری اختیار کی تو حتمی امیدواروں کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان ریاستوں کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر ریاستوں میں ضمنی انتخابات بھی اسی دن منعقد ہوں گے۔ کرناٹک کی دو اسمبلی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے 50 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ گوا کی ایک نشست پر تین امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ اسی طرح ناگالینڈ کی ایک اسمبلی سیٹ پر سات اور تریپورہ کی ایک نشست پر چھ امیدوار انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔انتخابی ریاستوں میں ضابطۂ اخلاق نافذ، سرکاری ویب سائٹس سے وزراء کی تصاویر ہٹانے کی ہدایتالیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ نامزدگیوں کی جانچ کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا گیا۔ ریٹرننگ افسران نے امیدواروں یا ان کے نمائندوں کی موجودگی میں کاغذات کی جانچ کی اور اس پورے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے شبہات سے بچا جا سکے۔ اس کے بعد درست قرار دیے گئے امیدواروں کی فہرست تیار کر کے نوٹس بورڈ پر ان کی تصاویر کے ساتھ آویزاں کی گئی۔کمیشن نے اس سے قبل 15 مارچ کو انتخابی شیڈول کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت آسام کی 126، کیرالہ کی 140 اور پڈوچیری کی 30 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ مقرر کی گئی ہے۔ انتخابی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی ان علاقوں میں ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا تھا اور سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔مغربی بنگال انتخابات: الیکشن کمیشن کی سخت ہدایت، ہٹائے گئے ضلع مجسٹریٹوں کو سرکاری بنگلے فوری خالی کرنے کا حکمدوسری جانب انتخابی عمل کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے کمیشن کی نگرانی میں مختلف ٹیمیں بھی سرگرم ہیں۔ حکام کے مطابق 5,173 سے زائد فلائنگ اسکواڈ اور 5,200 سے زیادہ نگرانی ٹیموں نے انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بڑی مقدار میں نقدی، شراب، منشیات اور دیگر اشیاء ضبط کی ہیں۔ ضبط شدہ اشیاء کی مجموعی مالیت سینکڑوں کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ان ٹیموں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی شکایت پر فوری کارروائی کی جائے اور زیادہ سے زیادہ 100 منٹ کے اندر اس کا ازالہ یقینی بنایا جائے، تاکہ انتخابی عمل کو بدعنوانی، دباؤ اور بے ضابطگیوں سے پاک رکھا جا سکے۔