نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کا اثر ہندوستان سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں گھریلو ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے مٹی کے تیل کی سپلائی کو عارضی طور پر بحال کرنے اور اس کی دستیابی کو آسان بنانے کے لیے قوانین میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔29 مارچ کو جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے 21 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں عوامی تقسیم نظام کے تحت سپیریئر کیروسین آئل کی 60 دن کے لیے عارضی فراہمی کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ بحران کے دوران عام لوگوں کو کھانا پکانے اور روشنی جیسے بنیادی استعمال کے لیے ایندھن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دائرے میں دہلی، ہریانہ، اتر پردیش اور گجرات جیسے اہم علاقے بھی شامل ہیں۔نئے انتظام کے تحت سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیر انتظام منتخب پیٹرول پمپوں کو مٹی کے تیل کو ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہر منتخب آؤٹ لیٹ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار لیٹر تک مٹی کا تیل رکھ سکے گا، جبکہ ہر ضلع میں صرف دو پیٹرول پمپوں کو اس مقصد کے لیے نامزد کیا جائے گا تاکہ سپلائی منظم اور کنٹرول میں رہے۔حکومت نے سپلائی چین کو تیز کرنے کے لیے اسٹوریج، نقل و حمل اور تقسیم سے متعلق بعض لائسنسنگ ضوابط میں بھی نرمی دی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کا استعمال صرف گھریلو ضروریات جیسے کھانا پکانے اور روشنی تک محدود رکھا جائے گا تاکہ اس کے غلط استعمال اور ایندھن میں ملاوٹ جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ اس پورے عمل میں پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیو سیفٹی آرگنائزیشن کے حفاظتی رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں مٹی کے تیل پر مکمل پابندی کبھی نافذ نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے مرحلہ وار کم کیا گیا تھا۔ 2015 کے بعد حکومت نے ایل پی جی اور بجلی کی فراہمی بڑھانے کے لیے مختلف اسکیمیں شروع کیں، جس کے نتیجے میں عوامی تقسیم نظام کے ذریعے سبسڈی والے مٹی کے تیل کی فروخت بتدریج ختم کر دی گئی۔ کئی ریاستوں نے خود کو کیروسین فری بھی قرار دے دیا تھا، جس کے بعد اس کا استعمال نمایاں طور پر کم ہو گیا تھا۔موجودہ بحران کی بنیادی وجہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی ایل پی جی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور اس میں بھی خاصی مقدار خلیجی ممالک سے آتی ہے، اس لیے سپلائی میں رکاوٹ کا براہ راست اثر ملک کے گھریلو بازار پر پڑا ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ مٹی کے تیل کی عارضی واپسی سے فوری راحت ملے گی اور جب تک عالمی حالات معمول پر نہیں آتے، تب تک عوام کو بنیادی ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔