تہران(29 مارچ 2026): امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک شہداء کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔یہ انکشاف ایران کی فلاحی تنظیم ہلال احمر نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں مشرقی اور مغربی تہران میں فوجی تنصیبات کے ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ہلال احمر کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ایرانیوں کی تعداد 2076 ہوگئی ہے جن میں کم سے کم 600 خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ 26 ہزار 500 سے زیادہ زخمی ہیں۔قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں، جن کے دوران تہران سے مشہد تک کے شہر رات بھر دھماکوں سے گونجتے رہے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق درجنوں سرکاری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں میں ایران کے 26 صوبوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، ایرانی ہلال احمر نے بتایا کہ حملوں سے 93 ہزار سے زائد شہری املاک اور تجارتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںان عمارتوں میں 336 ہیلتھ اور ایمرجنسی سینٹر اور 600 اسکول بھی شامل ہیں، میڈیا ادارے اور کھیلوں کے میدان بھی جارحیت سے محفوظ نہیں رہے۔اس کے علاوہ امدادی کارروائیوں میں مصروف 48 ایمرجنسی گاڑیاں، 46 ایمبولینس اورہلال احمر کے 3 ریسکیو ہیلی کاپٹر بھی فضائی حملوں سے تباہ ہوئے۔اسرائیل کا تہران میں قطری نیوز چینل پر میزائل حملہ، نشریات معطل