(29 مارچ 2026): والدین کی دیکھ بھال نہ کرنے والے نجی و سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا بل منظور کر لیا تاکہ اس کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔بھارتی ریاست تلنگانہ کی حکومت نے قانون ساز اسمبلی سے ایک تاریخی بل ’تلنگانہ ایمپلائز اکاؤنٹ ایبلٹی اینڈ مانیٹرنگ آف پیرنٹل سپورٹ بل 2026‘ منظور کروایا، جس کا مقصد ان نجی و سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا ہے جو اپنے والدین کو نظر انداز کرتے ہیں یا ان کی کفالت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔قانون کا اطلاق صرف ملازمین پر ہی نہیں بلکہ ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، نامزد اراکین اور مقامی اداروں کے منتخب نمائندوں پر بھی ہوگا۔یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاریاس کے تحت والدین کی دیکھ بھال نہ کرنے پر ملازم کی تنخواہ سے 15 فیصد تک کٹوتی کی جا سکے گی۔بحث کے دوران وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ والدین کے حقوق کا تحفظ خیر سگالی سے ہونا چاہیے لیکن یہ بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب والدین کو نظر انداز کیا جائے تو قانون ان کا ساتھ دے۔وہ معمر والدین جنہیں ان کی اولاد نظر انداز کر رہی ہے، وہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کے پاس درخواست جمع کرا سکتے ہیں جو اس معاملے کا فیصلہ کرنے والا مجاز افسر ہوگا۔درخواست گزار کو اپنی تمام ذرائع سے ہونے والی آمدنی کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ کلکٹر کو درخواست ملنے کے 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا، اس دوران والدین اور ملازم دونوں کا مؤقف سنا جائے گا۔کٹوتی کی رقم براہ راست والدین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی، یہ قانون سگے والدین کے ساتھ ساتھ سوتیلے والدین پر بھی لاگو ہوگا۔اس نظام کی نگرانی کیلیے ایک کمیشن بنایا جائے گا جس کی سربراہی ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں گے۔ کمیشن میں انتظامی یا سماجی شعبے کے تجربہ کار اراکین بھی شامل ہوں گے، کمیشن کے پاس نیم عدالتی اختیارات ہوں گے بشمول انکوائری کرنے اور گواہوں کو طلب کرنے کی طاقت۔اگر والدین میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو دوسرا بقایا رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔