روس نے امریکا اور جنوبیکوریاکی حال ہی میں ہونے والی فوجی مشقوں کو جنگ کی تیاری قرار دے دیا۔ترجمان روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا اور جنوبیکوریا کی مشقیںمحض دفاعی نہیں ہیں بظاہر سرکاری طور پر ان مشقوںکو دفاعی قرار دیا گیا ہے مشقوں میں تعینات فوجی سازوسامان دیکھ کر لگتا ہے یہ جنگ کی کھلیتیاری ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکا اور جنوبیکوریا کا مؤقف ہے کہ مشقیں شمالیکوریا کی جانب سے خطرات کیخلاف ہیں۔روس نے امریکا اور جنوبی کوریا فوجی مشقوں کو خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دے کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان امریکا اور جنوبی کوریا نے اپنی سالانہ فریڈم شیلڈ فوجی مشقیں مکمل کی ہیں۔دونوں فریقوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 11 روزہ مشق نے جنگ کے وقت کے منظرناموں کو نقل کیا اور "تمام ڈومینز میں” مشترکہ آپریشنل تیاری کو بڑھایا۔تقریباً 18,000 فوجیوں نے حصہ لیا جبکہ فیلڈ مشقوں کی تعداد گزشتہ سال 51 سے گھٹ کر 22 کے قریب رہ گئی۔ حکام نے کہا کہ ممکنہ سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے مشقیں سال بھر میں پھیلائی جائیں گی۔اس مشق میں جنگ کے وقت کے آپریشنل کنٹرول (OPCON) کو واشنگٹن سے سیول منتقل کرنے کے حالات کا بھی جائزہ لیا گیا، یہ جنوبی کوریا کی حکومت کا ایک دیرینہ ہدف ہے۔شمالی کوریا نے مشقوں کو "حملے کی مشق” کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عرصے کے دوران متعدد بیلسٹک میزائل لانچ کیے ہیں۔