نئی دہلی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، ہندوستان کے کردار اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس جنگ میں ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حالات اس کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر کسی کا کنٹرول باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جن طاقتوں نے اس تنازعہ کو جنم دیا، اب وہ خود بھی اس پر قابو نہیں رکھ پا رہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان اس پورے معاملے میں غیر فعال دکھائی دے رہا ہے اور اس کا کردار تقریباً صفر ہو چکا ہے۔سنجے راؤت نے مزید کہا کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کو سفارتی حکمت عملی کی بہتر سمجھ ہوتی تو یہ جنگ اس نہج تک نہ پہنچتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ واضح طور پر جنگ ہار رہا ہے اور اسی وجہ سے وہاں کی قیادت جلدبازی میں فیصلے لے رہی ہے، جو حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے ریاستی سطح پر ہونے والے انتخابات میں کراس ووٹنگ کے مسئلے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ سنجے راؤت کے مطابق بی جے پی نے مختلف ریاستوں میں اقتدار اور وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ووٹنگ کے رجحانات کو متاثر کیا۔ انہوں نے ہریانہ، بہار اور اوڈیشہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں کراس ووٹنگ کے پیچھے سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کارفرما تھا۔اوڈیشہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو منتخب کروایا گیا جس پر کوئلہ گھوٹالے کا الزام ہے اور جس کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سنجے راؤت نے بین الاقوامی اور قومی معاملات پر اس طرح کا سخت موقف اختیار کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھا چکے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر ہندوستان کو محدود مدت کی رعایت دی تھی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا تھا کہ اگر کوئی دوسرا ملک یہ طے کرے کہ ہندوستان کب اور کتنا تیل خریدے، تو یہ خودمختاری کے لیے مناسب نہیں ہے۔سنجے راؤت کے بیانات ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں ان کے تبصروں کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔