(24 مارچ 2026): ایران نے ثالثی کی کوششوں کے درمیان امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلیے سخت مؤقف اپنا لیا ہے جبکہ اس کے ممکنہ مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے تین اعلیٰ ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کے مذاکراتی مؤقف میں غیر معمولی سختی آئی ہے۔ پاسداران انقلاب کے فیصلے سازی پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث اگر ثالثی کی کوششیں سنجیدہ مذاکرات کی شکل اختیار کرتی ہیں تو ایران امریکا سے بڑے مطالبات کرے گا۔ذرائع کے مطابق امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایران نہ صرف جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرے گا بلکہ ایسے مطالبات بھی کرے گا جو غالباً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ایران امریکا سے مستقبل میں کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف ضمانت، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر مکمل اور باضابطہ کنٹرول جیسے مطالبات کرے گا۔علاوہ ازیں، ذرائع نے بتایا کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی پابندی کے حوالے سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دے گا جو کہ اس کیلیے ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر مذاکرات طے پاتے ہیں تو ایران اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھیجے گا، تاہم ذرائع نے خبردار کیا کہ حتمی فیصلے کا اختیار پاسداران انقلاب کے پاس ہی ہوگا۔