امریکا میں پیدائشی شہریت کے حق کے کیس کے حوالے سے اہم خبر

Wait 5 sec.

واشنگٹن (30 مارچ 2026): امریکی سپریم کورٹ یکم اپریل کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو حکم نامے کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ مقدمہ امریکی آئین اور قومی اقدار کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔پیدائشی شہریت، جسے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کہا جاتا ہے، امریکی آئین کے تحت وہ حق ہے جس کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود امریکی شہری بن جاتا ہے۔تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حق کو صرف امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں تک محدود کرنا چاہتے تھے، ان کا مؤقف تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن اور عارضی طور پر امریکا آنے والے افراد یہاں بچوں کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کر لیتے ہیں، جسے روکنا ضروری ہے۔اسی مقصد کے تحت ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس میں غیر قانونی یا عارضی حیثیت کے حامل افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار شہریت دینے سے روکنے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم قانونی رکاوٹوں کے باعث اس حکم نامے پر عمل درآمد ممکن نہ ہو سکا۔یورینیم نکالنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دن ایران میں رہنا پڑے گا، امریکی اخباردرخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے خلاف ہے، جو امریکا میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 1868 میں شامل کی گئی اس ترمیم کا اصل مقصد سابق غلاموں اور ان کی اولاد کو شہریت دینا تھا، نہ کہ موجودہ وسیع تشریح کے مطابق ہر پیدا ہونے والے بچے کو شہریت دینا۔یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ ملک بھر کی مختلف وفاقی عدالتیں پہلے ہی اس حکم نامے پر عمل درآمد روک چکی ہیں، جب کہ سینیٹ کی جوڈیشری سب کمیٹی میں بھی حالیہ سماعت کے دوران قانونی ماہرین نے پیدائشی شہریت کو آئینی حق قرار دیا۔ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ اس معاملے پر پہلی بار باضابطہ سماعت کرنے جا رہی ہے، اور عدالت کی موجودہ تشکیل، جس میں قدامت پسند ججز کی اکثریت ہے، اس مقدمے کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/03/jahanzaib-ali.mp4