نیویارک : ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں دو ہفتوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔پیر کی صبح عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔اسی طرح ویسٹ ٹیکساس خام ایک اعشاریہ پانچ سات فیصد مہنگا ہوا، جس سے اس کی قیمت ایک سو ایک ڈالرانیس سینٹ فی بیرل ہوگئی۔19 مارچ کو قیمتیں مختصر وقت کے لیے 119 ڈالر تک پہنچی تھیں، جس کے بعد یہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی ایران کے اس بیان کے بعد آئی ہے، جس میں کہا گیا کہ وہ امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔.ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم امریکی افواج کی آمد کے منتظر ہیں تاکہ انہیں ‘آگ کے حوالے’ کر سکیں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کو سزا دی جا سکے۔”گزشتہ ہفتے کے دوران جنگ میں نئی شدت دیکھنے میں آئی ، پہلی بار ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل داغے ہیں، جس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی جارحیت کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی موثر بندش نے دنیا کو دہائیوں کے بڑے توانائی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس راستے سے عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے جو فی الحال معطل ہے۔جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔