تہران : ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحری کمانڈر علی رضا تنگسیری کی شہادت کی تصدیق کردی، ان کا شمار ایران کی عسکری قیادت کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔تفصیلات کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے باضابطہ طور پر اپنی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل علی رضا تنگسیری کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ایرانی میڈیا نے بتایا کمانڈر تنگسیری ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ (یا کاٹز) نے 26 مارچ کو ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایک ٹارگٹڈ حملے میں پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو نشانہ بنایا تاہم کئی روز تک جاری رہنے والی قیاس آرائیوں کے بعد اب ایرانی حکام نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔کمانڈر علی رضا تنگسیری کون تھے؟علی رضا تنگسیری کا شمار ایران کی عسکری قیادت کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا تھا، ان کی شہادت کو ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور اس حساس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کے منصوبے کا مرکزی ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔وہ خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی بحری نقل و حرکت کے خلاف سخت گیر موقف اور حکمتِ عملی تیار کرنے میں مشہور تھے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شدت اختیار کر چکی ہے، بحری کمانڈر کی شہادت سے سمندری محاذ پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ایران کی جانب سے اس ہائی پروفائل شہادت کا بدلہ لینے کے لیے کسی بڑے ردِعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔