نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما ڈاکٹر نریش کمار نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے شروع کیے گئے سائیکل تقسیم پروگرام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے محض نمائشی اور عارضی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ زمینی سطح پر تعلیمی شعبے کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ڈاکٹر نریش کمار کے مطابق دہلی کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی شدید قلت اور تعلیمی ڈھانچے کی خستہ حالی جیسے اہم مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کی تعلیم کو فروغ دینا یقیناً ضروری ہے، لیکن اس مقصد کے لیے صرف سائیکل تقسیم کرنا کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے شعبے میں دیرپا اور مضبوط اصلاحات کی ضرورت ہے، نہ کہ محض ایسے اقدامات جو وقتی طور پر توجہ حاصل کریں۔انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت سنجیدہ پالیسی سازی کے بجائے تشہیری پروگراموں پر زیادہ زور دے رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو زمینی سطح پر کسی ٹھوس تبدیلی کا احساس نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے بنیادی مسائل کو ترجیح دے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔دہلی بجٹ کسانوں اور دیہات کے ساتھ وعدہ خلافی کا ثبوت: ڈاکٹر نریش کمارڈاکٹر نریش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہی جماعت کبھی غریبوں اور محروم طبقات کو دی جانے والی مفت سہولتوں کو ’ریوڑی‘ قرار دیتی تھی، لیکن آج خود اسی راستے پر چل رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل حکومت کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کی موجودہ حکومت گزشتہ ایک سال کے دوران ایک بھی نیا اسکول، کالج یا یونیورسٹی قائم کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے اس کی ترجیحات واضح ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کرنا مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ایران نے ایل پی جی سے بھرے 2 جہاز بھیج کر ثابت کر دیا کہ وہ ہندوستان کا قابل اعتماد دوست ہے: ڈاکٹر نریش کمارڈاکٹر نریش کمار نے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے درمیان تال میل کی کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کے باعث پالیسیوں میں تضاد اور فیصلوں میں عدم تسلسل پیدا ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے، اساتذہ کی کمی دور کرنے، طالبات کے لیے محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور طویل مدتی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی بیٹیوں کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔