ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے منصوبے پر تیزی سے عمل کرے۔قریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے سے متعلق امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر صدر ٹرمپ ایران کے باضابطہ ردعمل کے منتظر ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو متنبہ کیا کہ وہ معاہدے کے بارے میں "سنجیدہ” ہو جائے، جب اس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران امریکی تجویز پر نظرثانی کر رہا ہے لیکن جنگ ختم کرنے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ٹرمپ کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب تنازعہ کے معاشی اور انسانی نقصانات میں اضافہ ہوا، دنیا بھر میں ایندھن کی قلت پھیل گئی ہے اور کمپنیوں اور ممالک کو اس ایمرجنسی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کو "ملٹری طور پر ختم کر دیا گیا ہے اب واپسی کا کوئی امکان نہیں” اور وہ معاہدے کے لیے "بھیک مانگ رہا ہے”۔ایرانی مذاکرات کاروں کو "بہت مختلف اور ‘عجیب'” قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "بہتر ہے کہ وہ جلد ہی سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کیونکہ ایک بار ایسا ہونے کے بعد، پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے اور یہ بہتر نہیں ہوگا۔”اس سے قبل واشنگٹن میں ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن وہ اپنے عوام اور امریکا کے خوف سے اس کا اعتراف نہیں کر رہے۔صدر ٹرمپ نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ وہ (ایرانی) مذاکرات کر رہے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے اپنے لوگ یا پھر ہم انہیں مار دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی لوگ مجھے سپریم لیڈر بنانے پر بضد ہیں، لیکن میں نے انہیں جواب دیا نہیں شکریہ! مجھے یہ عہدہ نہیں چاہیے۔