فرینکفرٹ: جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں رجیم چینج کا امکان نہیں ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے افغان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے تجربات غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔فرینکفرٹ میں ’ایف اے زیڈ‘ اخبار کے زیر اہتمام منعقدہ ایک فورم میں انہوں نے کہا ”کیا حکومت کی تبدیلی واقعی مقصد ہے؟” انہوں نے مزید کہا، ”اگر یہی مقصد ہے، تو مجھے نہیں لگتا کہ آپ اسے حاصل کر پائیں گے۔جرمن چانسلر نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ آیا امریکہ اور اسرائیل کے پاس ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود ہے یا نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ جرمنی اصولی طور پر جنگ کے خاتمے کے بعد خطے کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ برلن سفارتی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ حل تلاش کیا جا سکے، چاہے وہ خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہو یا جی 7 کے پلیٹ فارم پر، جبکہ واشنگٹن بھی کچھ حد تک مشترکہ موقف تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”ہم اسرائیل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس میں کامیابی محدود رہی ہے۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںانہوں نے بتایا کہ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے ٹرمپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ نیٹو کی جنگ نہیں ہے، اور ان کے خیال میں ٹرمپ نے اس بات کو سمجھ لیا ہے۔