امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایک ماہ مکمل

Wait 5 sec.

تہران: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایک ماہ مکمل ہوگیا، اس دوران اسرائیل نے شہری آبادیوں پر وحشیانہ حملے کئے، ایک ماہ میں اسرائیلی جارحیت میں 1900 سے زائد بے گناہ شہری جام شہادت نوش کرگئے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے تہران میں یونیورسٹی پر بمباری کی گئی، جبکہ مناب میں اسکول پر بمباری کرکے معصوم بچیوں کا خون بہایا گیا۔اسرائیلی فوج نے تہران کے وسطی علاقے میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، صیہونی افواج کی جانب سے ایران میں مسلسل آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل1 ہزار شہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔دوسری جانب امریکا کے ایران سے مذاکرات پر واشنگٹن کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آ گیا ہے، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں اس ہفتے ہوں گے۔امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران اس ہفتے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرے گا، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔وٹکوف نے جمعہ کو میامی میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں ٹرمپ کو بعد میں تقریر کرنا تھی، ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا ”ہم سمجھتے ہیں کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی، اور ہمیں یقیناً اس کی امید ہے۔“کاروباری شخصیت سے سفارتی ایلچی بننے والے وٹکوف نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے امن منصوبے پر تہران کے جواب کی توقع ہے، ہمارا 15 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ میز پر موجود ہے، ہم ایرانیوں سے جواب کی توقع رکھتے ہیں۔ اس سے سب کچھ حل ہو سکتا ہے۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںایران سے مذاکرات کے لیے امریکا کی طرف سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کے نام سامنے آ چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف امریکی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔ امریکا ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوں گے۔