امریکی صدر نے اسٹریٹ آف ہرمز کو اسٹریٹ آف ٹرمپ کہہ دیا

Wait 5 sec.

فلوریڈا (28 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو اسٹریٹ آف ٹرمپ کہہ دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز مزاحیہ انداز میں آبنائے ہرمز کو ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ کہہ کر سامعین کو ہنسنے پر مجبور کر دیا، انھوں نے فلوریڈا کے میامی میں مستقبل کی سرمایہ کاری کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ایران کو اسٹریٹ آف ٹرمپ، میرا مطلب ہے ہرمز، کھولنا ہوگا۔‘‘آبنائے ہرمز دوسرے مہینے میں داخل ہونے والی ایران جنگ میں تنازعے کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے، یہ آبنائے تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور ایران کی جنگ میں ایک کلیدی نقطہ ہے۔امریکی صدر نے مصنوعی معذرت کرتے ہوئے کہا ’’معذرت خواہ ہوں، مجھے بہت افسوس ہے، یہ ایک سنگین غلطی ہو گئی۔‘‘ اور پھر کہا ’’اب فیک نیوز یہ کہے گی کہ اس نے غلطی سے کہہ دیا، لیکن مجھ سے غلطیاں نہیں ہوتیں، زیادہ نہیں ہوتیں، اگر ہوتیں تو یہ ایک بڑی خبر بن جاتی۔‘‘واضح رہے کہ ایران کی اس قابلِ ذکر صلاحیت کہ وہ مؤثر طریقے سے اس آبنائے کو بلاک کر سکتا ہے (جس راستے سے عام طور پر روزانہ 2 کروڑ (20 ملین) بیرل تیل گزرتا ہے) نے عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں تاریخی خلل پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ پیر کو ٹرمپ نے اس امکان کا ذکر کیا تھا کہ اس آبنائے کو ’’میں اور آیت اللہ‘‘ مشترکہ طور پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور معاہدہ کرنے کے لیے ’’ترس رہا ہے‘‘ حالاں کہ تہران نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی براہِ راست بات چیت ہو رہی ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںنیویارک پوسٹ نے ذرائع کے حوالے سے جمعہ کی شام رپورٹ کیا کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنے اور اسے اپنے نام سے منسوب کرنے پر غور کر رہے ہیں، یا اسے ’’اسٹریٹ آف امریکا‘‘ کہنے کا امکان ہے، جیسا کہ انھوں نے پہلے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔جمعہ کے روز ’’اسٹریٹ آف ٹرمپ‘‘ کا طنزیہ بیان اس صدر کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے جس نے بطور بزنس مین اور رئیل اسٹیٹ کے بڑے سرمایہ کار اپنی پہچان کے لیے اپنا نام ایک مرکزی برانڈ بنا لیا ہے۔یاد رہے کہ اکتوبر میں ٹرتھ سوشل کی ایک پوسٹ میں بھی ٹرمپ نے مذاقاً واشنگٹن میں واقع جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا نام استعمال کیا تھا، اس پوسٹ میں عمارت کی بیرونی تزئین و آرائش کی تصاویر شامل تھیں، جس میں کیپشن میں لکھا گیا ’’نئے ٹرمپ کینیڈی ستون، اوہ میرا مطلب کینیڈی سینٹر کے ستون۔‘‘بعد ازاں دسمبر میں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ کینیڈی سینٹر کے بورڈ نے اس کا نام تبدیل کر کے ٹرمپ کینیڈی سینٹر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔میامی سمٹ سے خطابامریکی صدر ٹرمپ نے تقریب سے خطاب میں کہا ہم نے اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تاریخی اقدام کیا ہے، آج رات ہم مشرق وسطیٰ کو خطرے سے دور کرنے کے قریب ہیں، ایران کی جانب سے نیوکلیئر بلیک میلنگ کو ختم کر دیا ہے، ایرانی جارحیت اور بلیک میلنگ سے مشرق وسطیٰ کو آزاد کر دیا۔انھوں نے کہا ایران 47 سال سے مشرق وسطیٰ میں سب کو ہراساں کر رہا تھا، اب ایران مشرق وسطیٰ میں کسی کو ہراساں نہیں کر سکتا، وعدہ کرتا ہوں ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو یہ مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا، ایٹم بم ہوتا تو یہ اسرائیل پر استعمال کر سکتا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران نے متحدہ عرب امارات پر 1500 میزائل داغے، سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر پر میزائل حملے کیے گئے، کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا کہ سعودی عرب پر بھی میزائل داغے جائیں گے، ہم ایران پر ایسے حملے کر رہے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہا کیا ہو رہا ہے۔امریکی صدر نے کہا ایرانی حکام نے 3 دن پہلے جھوٹ بولا کہ مذاکرات نہیں ہو رہے، ایسے سخت حملے ہوں گے تو ہر کوئی ڈیل کے لیے تیار ہو جائے گا، ایرانی حکام نے حملوں کے 2 دن بعد کہا مذاکرات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا میرے خیال سے ایران میں رجیم چینج کر دی گئی ہے، اب ایران میں پتا نہیں چل رہا کہ کون قیادت کر رہا ہے۔انھوں نے کہا ایران کا نیا سپریم لیڈر مر چکا یا بری حالت میں ہے، تاہم ان سے متعلق کچھ پتا نہیں چل رہا، ایران ایسا ملک ہے جس کی قیادت کوئی نہیں کرنا چاہتا، اس ساری صورت حال میں نیٹو سے بہت مایوس ہوا ہوں، سعودی عرب، یو اے ای، قطر کی قیادت بہت بہادر ہے، مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اب وقت آ گیا ہے کہ معاہدہ ابراہیم میں شامل ہوا جائے، سعودی ولئ عہد کو کہا اب معاہدہ ابراہیم میں شامل ہونا چاہیے۔صدر نے کہا ’’امریکی جنرلز نے بتایا تھا کہ عراق میں داعش کو ختم کرنے میں 4 سال لگیں گے، لیکن جنرل ڈین کین نے بتایا کہ داعش کو 4 ہفتوں میں ختم کر دوں گا، میں نے جنرل سے کہا میں تمھارے جیسے بندے کو ڈھونڈ رہا تھا، میں انصاف اور جیتنے کے لیے جنگ کرتا ہوں، جاری رکھنے کے لیے نہیں، میں ماضی کے صدور کی طرح نہیں کہ جنگیں بس چلتی رہیں۔‘‘