ایران نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے سامنے 6 شرائط رکھ دیں!

Wait 5 sec.

واشنگٹن (25 مارچ 2026): ایران نے امریکا کے پندرہ نکاتی امن منصوبے کے جواب میں اپنے 6 مطالبات امریکا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا کے 15 نکاتی امن منصوبے کے جواب میں ایران نے جنگ کے خاتمے کیلیے امریکا کو اپنے 6 مطالبات پیش کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے سب سے پہلا مطالبہ یہ کیا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ یا جارحیت شروع نہ ہونے کی واضح اور قابل عمل بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔ایرانی کی دوسری شرط یہ ہے کہ خطے (مشرق وسطیٰ) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مکمل طور پر ختم اور بند کیا جائے۔تیسری شرط یہ ہے کہ جارح قوتیں (امریکا اور اسرائیل) اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹیں اور جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا پورا ہرجانہ ادا کیا جائے۔چوتھی شرط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ تمام علاقائی محاذوں (لبتان، یمن اور دیگر ممالک) پر جاری جنگ اور معاندانہ سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔پانچویں شرط میں ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور ٹیکس  وصولی کے حق کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی اور سیکیورٹی کے لیے ایک نیا بین الاقوامی قانونی نظام نافذ کیا جائے جو ایران کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔چھٹی اور آخری شرط یہ ہے  کہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والی میڈیا سرگرمیوں کو روکا جائے اور ان کے خلاف قانونی کاررروائی کرتے ہوئے ملوث عناصر کو متعلقہ ممالک سے ملک بدر کیا جائے۔ ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںواضح رہے کہ ایران جنگ روکنے اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصری حکام امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں اور آئندہ 48 گھنٹے میں مذاکرات کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔