مدھیہ پردیش میں بجلی نرخوں میں اضافہ، عوامی جیب پر براہ راست بوجھ: جیتو پٹواری

Wait 5 sec.

بھوپال: مدھیہ پردیش میں بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے اس فیصلے کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ براہ راست عام صارفین کی جیب پر حملہ ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کو ایک مکتوب لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔جیتو پٹواری نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ریاست میں ایک بار پھر بی جے پی حکومت عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے جا رہی ہے۔ انہوں نے یکم اپریل سے نافذ ہونے والی مجوزہ بجلی قیمتوں میں 4.80 فیصد اضافے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی خدمت کے بجائے محض محصولات جمع کرنے کے نظریہ پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے گزشتہ دس برسوں کے دوران بجلی نرخوں میں ہونے والے اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بجلی کی قیمتوں میں 22 سے 24 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے صفر سے 50 یونٹ تک کی شرح جو پہلے 3.65 تھی، اب بڑھ کر 4.45 ہو گئی ہے، جو کہ بیس فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ماہ فیول سرچارج کے نام پر تین فیصد سے زیادہ اضافی بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔پٹواری نے کہا کہ موجودہ مجوزہ اضافہ معمولی نہیں بلکہ پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان ایک اور ضرب ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ پر بیس فیصد رعایت کے دعووں کو بھی حقیقت سے دور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں ابھی الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال محدود ہے، اس لیے اس رعایت کا فائدہ بہت کم لوگوں تک محدود رہے گا جبکہ اصل بوجھ عام گھریلو صارفین پر ہی پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی پالیسیاں پیش کر رہی ہے جن کا زمینی حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات صرف دکھاوے کے لیے ہیں جبکہ عملی طور پر عوام کو کسی قسم کی راحت فراہم نہیں کی جا رہی۔کانگریس کے ریاستی صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی نرخوں میں اس مجوزہ اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کانگریس ریاست بھر میں سڑکوں سے لے کر ایوان تک اس کے خلاف سخت اور فیصلہ کن احتجاج کرے گی۔