دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اضافہ کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ ایک طرف اضافی فیس کو لے کر سرپرستوں میں مایوسی ہے، دوسری طرف پرائیویٹ اسکولوں نے ایسے طلبا کے نام کاٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جنھوں نے فیس کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ میور وہار اور دوارکا کے 2 بڑے اسکولوں پر والدین نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ منمانے طریقے سے فیس بڑھا کر طلبا پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں بچوں کے نام کاٹنے کی کارروائی سے والدین میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ایسی خبریں ہیں کہ مجموعی طور پر تقریباً 40 بچوں کے نام اس لیے کاٹ دیے گئے ہیں کیونکہ انھوں نے بڑھی ہوئی فیس ادا نہیں کی ہے۔ اس معاملہ میں اب قانونی لڑائی بھی شروع ہو چکی ہے اور ہائی کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ اصولوں کو نظرانداز کر رہی ہے اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر عآپ لیڈر سوربھ بھاردواج نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ میور وہار میں واقع سلوان اسکول کے خلاف والدین 27 مارچ کو احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسکول زبردستی بڑھی ہوئی فیس وصول کرنے کے لیے بچوں کے نام کاٹنے کا دباؤ بنا رہا ہے۔ یہی نہیں، اسکول نے طلبا کے ریزلٹ کو بھی روک دیا ہے، جس سے والدین کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔والدین کے مطابق نرسری جیسے چھوٹے بچوں تک کو نام کاٹنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسکول قصداً دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ والدین بڑھی ہوئی فیس ادا کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس معاملے کی سماعت فی الحال دہلی ہائی کورٹ میں جاری ہے۔دوارکا کے ایک اسکول نے بھی والدین کو نوٹس بھیج کر انتباہ دیا ہے کہ اگر بڑھی ہوئی فیس جلد جمع نہ کی گئی تو بچوں کے نام اسکول سے خارج کر دیے جائیں گے۔ اس سے والدین میں خوف اور بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک والد نے بتایا کہ ان کے بچے کی فیس اتنی زیادہ بڑھا دی گئی ہے کہ اسے ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان سے تقریباً 1.78 لاکھ روپے جمع کرنے کو کہا گیا ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا بوجھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیس اور دیگر چارجز ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں۔والدین کا الزام ہے کہ اسکول نہ تو محکمۂ تعلیم کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں اور نہ ہی عدالت کے احکامات کا خوف رکھتے ہیں۔ جبکہ ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ بچوں کے نام نہیں کاٹے جا سکتے۔ عدالت کے مطابق والدین کو بنیادی فیس کے ساتھ بڑھی ہوئی فیس کا 50 فیصد جمع کرنا ہوگا اور حتمی فیصلہ آنے کے بعد آئندہ کی فیس کا تعین کیا جائے گا۔