واشنگٹن(27 مارچ 2026): امریکی کانگریس مین ٹام سوزی کہتے ہیں کہ دہشت گردی ایک بڑا چیلنج ہے اور دنیا کو اس خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے پاکستان تنہا بھاری بوجھ اٹھا رہا ہے، جس کا عالمی سطح پر اعتراف ہونا چاہیے۔ٹام سوزی امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان شیخ کے ہمراہ ایک آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کی، امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے چیئر ٹام سوزی نے کہا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط پاک امریکا شراکت داری نہایت اہم رہی ہے، جبکہ پاکستان کے معاشی سفر اور اس کے روشن مستقبل کے امکانات بھی قابل توجہ ہیں۔ٹام سوازی نے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات اور امریکا کی جانب سے مزید سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کی بہتری کے لیے معاشی ترقی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے باعث ترقیاتی عمل متاثر ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث عالمی سطح پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس موقع پر سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور خصوصاً افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی قیمت اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کی مثال ماضی میں امریکا اور چین کے درمیان روابط کے قیام میں اس کا کردار ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے ٹام سوازی نے کہا کہ پاکستان، دونوں ممالک کا دوست ہونے کے ناطے، ایک اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔اس حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان پہلے ہی ملک کا مؤقف واضح کر چکے ہیں اور پاکستان موجودہ تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم مسئلے کا حتمی حل متعلقہ فریقین کی ذمہ داری ہے۔پریس کانفرنس کے دوران پاکستانیوں کو امریکی ویزے کے حصول میں درپیش مشکلات پر بھی سوال اٹھایا گیا، جس پر ٹام سوازی نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے ریپبلکن اراکین کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کو خط لکھنے پر بھی غور کریں گے۔