ایران جنگ میں ایئرپورٹس، کارخانوں، یونیورسٹیوں اور بندرگاہوں پر حملے جنگی جرم ہو سکتے ہیں، سی این این

Wait 5 sec.

ابوظبی (31 مارچ 2026): سی این این نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران جنگ میں ایئرپورٹس، کارخانے، یونیورسٹیاں اور بندرگاہیں ہدف بن گئی ہیں، جن پر حملے جنگی جرم ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع کو ایک ماہ گزرنے کے بعد اب بڑی تعداد میں شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اکثر یہ حملے دانستہ کیے جا رہے ہیں۔ اسٹیل، ایلومینیم اور کیمیکلز بنانے والے کارخانے، آئل ریفائنریز، پانی کے ذخائر، ڈی سیلینیشن پلانٹس، سول ایئرپورٹس اور جامعات سب ہی حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ان میں سے کچھ اہداف کو کسی ملک کی جنگی صلاحیت کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا تھا کہ ایسے مزید مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا جو اسرائیلی شہریوں کے خلاف ہتھیار بنانے اور چلانے میں معاون ہیں۔ اس کے فوراً بعد اسرائیل نے کئی اسٹیل پلانٹس پر حملے کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں سے معاشی اور سماجی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا کہ توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملے شہریوں کے لیے شدید اور متوقع تباہی کا سبب بن سکتے ہیں اور یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔امریکی حملے اب تک نسبتاً محدود نوعیت کے رہے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو سوشل میڈیا پر دھمکی دی کہ وہ ایران میں تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنویں اور جزیرہ خارک (اور ممکنہ طور پر ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اُن ممالک میں اسی نوعیت کی تنصیبات پر حملے کرے گا جو امریکا اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، اور بعض صورتوں میں انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے کہا کہ ایران کے انفراسٹرکچر پر حملوں کا جواب خطے میں امریکی-صہیونی دشمن سے متعلق اسٹریٹیجک صنعتوں کو تباہ کر کے دیا جا رہا ہے۔ایسے خطے میں جہاں تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل صنعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ایران اور اسرائیل دونوں نے ریفائنریز اور پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایسے اہداف سے گریز کر رہا ہے۔ تنازع کے آغاز میں ایرانی ڈرونز نے سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع راس تنورہ ریفائنری کو نشانہ بنایا، جب کہ متحدہ عرب امارات کے فجیرہ میں واقع اسی نوعیت کے کمپلیکس پر بھی بار بار حملے کیے گئے۔قطر انرجی نے راس لفان، جو دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی مراکز میں شامل ہے، پر ایرانی حملوں کے بعد ’’فورس میجر‘‘ کا اعلان کیا، یعنی وہ اپنے معاہدے پورے کرنے سے قاصر ہے۔ کویت کی ریفائنریز بھی نشانے پر رہیں، جہاں 19 مارچ کو مینا الاحمدی ریفائنری پر دو بار حملے کیے گئے۔ ادھر اسرائیل کو نشانہ بنانے والا ایک ایرانی بیلسٹک میزائل پیر کو تباہ کر دیا گیا، تاہم اس کا ملبہ حیفہ بے میں ایک ریفائنری پر گرا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ یہ اسی ماہ اس تنصیب پر دوسرا حملہ تھا۔اسرائیلی حملوں میں 7 مارچ کو تہران میں بڑے فیول اسٹوریج ٹینکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے شدید آلودگی پھیلی۔ اسرائیل کے مطابق یہ ٹینکس فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے دبئی، بحرین اور قطر کی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا، جب کہ عمان کی صلالہ اور دقم بندرگاہیں، جو آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ دوسری جانب ایران کے صوبہ ہرمزگان کی بندرگاہیں بھی حملوں کا نشانہ بنیں، جو آبنائے ہرمز پر مشتمل علاقہ ہے۔متحدہ عرب امارات اور بحرین ایلومینیم کے اہم پیداواری مراکز ہیں، اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پہلے ہی سپلائی میں کمی آ چکی ہے۔ ہفتے کے روز ایرانی حملوں میں بحرین اور ابوظبی کی ایلومینیم تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا۔ ان حملوں کے بعد پیر کو لندن مارکیٹ میں ایلومینیم کی قیمت میں 5 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے قبل ایران کے دو بڑے اسٹیل پلانٹس، مبارکہ اور خوزستان، بھی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک میں مزید اسٹیل پلانٹس کو ممکنہ جوابی کارروائی کے اہداف قرار دیا گیا ہے۔ایسے خطے میں جہاں تازہ پانی کی شدید کمی ہے، ڈی سیلینیشن پلانٹس نہایت اہم ہیں اور خلیجی ممالک میں تقریباً 10 کروڑ افراد کو پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔ تنازع کے آغاز میں بحرین نے کہا تھا کہ ایک ایرانی ڈرون نے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچایا، تاہم پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ 7 مارچ کو امریکا نے جزیرہ قشم پر ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس کی امریکا نے تردید کی۔اگرچہ ایران نے ایک ہفتہ قبل یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خلیجی ممالک کے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ نہیں بنائے گا، تاہم کویت کی وزارت بجلی کے مطابق پیر کو ایک حملے میں ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔ ایرانی میڈیا نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی اور اسرائیلی بمباری سے درجنوں اسپتال اور طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں، جن میں حالیہ واقعہ تہران کے ایک نفسیاتی اسپتال پر حملہ ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس مہم کے ابتدائی دنوں میں ایران میں صحت کی سہولیات پر 13 حملوں کی تصدیق کی تھی، اگرچہ اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں کہ طبی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ اکثر شہری علاقوں میں عسکری اہداف کے قریب واقع ہوتے ہیں، جس کے باعث متاثر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل حملے میں لڑکیوں کے قریبی اسکول میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں، نہ کہ خود وہ ممالک۔ تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ ہوٹل جہاں امریکی فوجی اہلکار مقیم ہوں، انھیں بھی ہدف سمجھا جائے گا۔ جیسے جیسے مہینہ گزرا، واضح طور پر شہری تنصیبات پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ’’ایران نے خطے کے توانائی اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جو خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی عالمی طاقت کے ستون ہیں۔ اس طرح وہ خلیجی شہریوں، رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرنا چاہتا ہے کہ یہ ریاستیں اپنے شہریوں اور غیر ملکی کارکنوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔اب جب کہ تنازع دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور خالصتاً فوجی اہداف کی تعداد کم ہو گئی ہے، اس کے معاشی اثرات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔