نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو پی اے سی ایل معاملے میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں خصوصی عدالت (پی ایم ایل اے) نے 455 غیر منقولہ جائیدادوں کو جسٹس آر ایم لودھا کمیٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان جائیدادوں کی موجودہ بازار قیمت تقریباً 15,582 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد لاکھوں متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی جمع شدہ رقم واپس دلانا ہے۔ای ڈی کے مطابق یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ، 2002 کے تحت کی گئی ہے۔ جاری مالی سال کے دوران ایجنسی نے مجموعی طور پر 26,324 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی ہیں، جبکہ پی اے سی ایل معاملے میں اب تک کل ضبطی 27,030 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں ہندوستان کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا میں موجود اثاثے بھی شامل ہیں۔یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر سے شروع ہوا تھا، جس میں پی اے سی ایل لمیٹڈ اور اس کے پروموٹرز پر لاکھوں سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق کمپنی نے ملک بھر کے سرمایہ کاروں سے 68 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم ایک غیر قانونی اجتماعی سرمایہ کاری اسکیم کے تحت جمع کی، جس میں سے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے اب تک واپس نہیں کیے گئے۔ای ڈی کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ اسکیم کو اس انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ سرمایہ کاروں کو کیش ڈاؤن پیمنٹ اور قسطوں پر مبنی منصوبوں کے ذریعے راغب کیا گیا۔ اس دوران ان سے گمراہ کن دستاویزات جیسے معاہدے، اسپیشل پاور آف اٹارنی اور دیگر کاغذات پر دستخط کروائے گئے۔ کئی معاملات میں زمین کی ملکیت کے بغیر ہی الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے گئے، جس سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی ہوئی۔سپریم کورٹ نے 2 فروری 2016 کو اپنے حکم میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کو ہدایت دی تھی کہ سابق چیف جسٹس آر ایم لودھا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو کمپنی کے اثاثوں کی فروخت اور سرمایہ کاروں کو رقم کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرے۔ اسی مقصد کے تحت جسٹس لودھا کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ای ڈی نے جولائی 2016 میں اس معاملے میں مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2018 میں خصوصی عدالت میں استغاثہ کی شکایت بھی داخل کی گئی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی کمائی کو پیچیدہ طریقے سے مختلف منسلک اداروں کے ذریعے منتقل کیا گیا اور بعد میں اسے جائیدادوں کی خریداری میں استعمال کیا گیا۔ایجنسی نے مرکزی ملزمان میں شامل ہرساتندر پال سنگھ ہیئر کو گرفتار کیا ہے، جبکہ سکھوندر کور اور گرپرتاپ سنگھ کے خلاف مفرور اقتصادی مجرم ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔ مزید برآں، برندر کور اور پریم کور کے خلاف عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہیں۔ معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے تاکہ دیگر فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کی جا سکے۔