ٹرمپ کا پاکستانی ثالثی کا ذکر، ایرانی تیل پر قبضے کا عندیہ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (30 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے، جس طرح بات چیت آگے بڑھ رہی ہے بہت جلد ڈیل ہو سکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارے میں میڈیا سے گفتگو میں ایرانی تیل پر قبضے کا عندیہ بھی دے دیا، کہا امریکا خارک جزیرے کے برآمدی مرکز پر قبضہ کر سکتا ہے، میرا پسندیدہ آپشن ایرانی تیل پر قبضہ کرنا ہے، اس کا مطلب ہے ہمیں کچھ دیر وہاں رہنا پڑے گا۔امریکی صدر نے کہا ایران سے مذاکرات جاری اور کامیاب سمت میں بڑھ رہے ہیں، پاکستان کے ذریعے پہنچائے گئے مطالبات پر ایران کا مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، اس نے امریکی 15 نکاتی مطالبات میں سے زیادہ تر تسلیم کر لیے ہیں، ہم بہت اہم نکات حاصل کر رہے ہیں، ڈیل جلد ممکن ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا امریکا نے ایران میں 13 ہزار اہداف پر بمباری کی ہے، تقریباً 3000 باقی ہیں، مجھے یقین نہیں ہے کہ ایرانیوں کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یا تو مر چکے ہیں یا بہت بری حالت میں ہیں، ہم نے ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںامریکی صدر نے کہا کہ ایران نے پہلے 8 اور پھر 2 مزید ٹینکر شامل کر کے کل 10 جہاز بھیجنے پر اتفاق کیا، اور اب انھوں نے احترام کے طور پر 20 بڑے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو کل صبح سے روانہ ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا ’’میں صرف اتنا کہوں گا کہ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں، لیکن آپ ایران کے ساتھ کبھی یقینی نہیں ہو سکتے، کیوں کہ ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں اور پھر ہمیں ہمیشہ انھیں تباہ کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ B-2 بمبار طیارے ہوں یا، مثال کے طور پر، ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کرنا ہو، جو باراک حسین اوباما نے کیا تھا—شاید یہ ہمارے ملک کی تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا، اور سب سے احمقانہ معاہدوں میں سے ایک۔‘‘