اسرائیل کے پاس ایرانی میزائل روکنے کی صلاحیت ختم ہونے لگی، امریکی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

Wait 5 sec.

(28 مارچ 2026): ایران کے مسلسل میزائل حملے روکنے کیلیے اسرائیل کے پاس جدید ترین انٹرسیپٹر میزائل ختم ہونے لگے ہیں، اس بات کا انکشاف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کر دیا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اپنے سب سے جدید میزائل انٹرسیپٹر کا استعمال محدود کرنا شروع کر دیا، ایران کی جانب سے مسلسل ہونے والے میزائل حملوں کے نتیجے میں ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے اسرائیلی فوج کو مجبور کیا کہ وہ کم صلاحیت والے دفاعی نظاموں پر زیادہ انحصار کرے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر لانچنگ جاری ہے۔یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج میں اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا، آرمی چیف نے خطرے کی گھنٹی بجا دیحالیہ دنوں میں 2 ایرانی میزائل اسرائیل کے جنوبی شہروں ڈیمونا اور عراد میں لگے جب ترمیم شدہ نچلے درجے کے دفاعی نظاموں کے ذریعے انہیں روکنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔اسرائیلی فضائی دفاع جسے طویل عرصے سے دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شمار کیا جاتا رہا ہے اب تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک خطرات کا مقابلہ کرنے کیلیے زیادہ تر Arrow سسٹم پر انحصار کرتا رہا ہے۔تاہم، حکام اب ان مہنگے اور اعلیٰ درجے کے انٹرسیپٹرز کو بچا کر رکھ رہے ہیں اور ان کے بجائے David’s Sling کے بہتر ورژن اور یہاں تک کہ آئرن ڈوم کا استعمال کر رہے ہیں حالانکہ یہ نظام اصل میں ان بڑے خطرات سے نمٹنے کیلیے ڈیزائن نہیں کیے گئے۔یہ اقدام فوجی ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے بڑے پیمانے پر تیار کردہ سستے میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں جدید انٹرسیپٹرز کی زیادہ قیمت اور سست پیداواری رفتار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔میزائل ڈیفنس ایڈوکیسی الائنس کے تال انبار کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے انٹرسیپٹرز کی تعداد محدود ہے، طویل مدتی تنازع فوجی قیادت کو یہ مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ دفاعی نظام کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایران 400 سے زائد میزائل اور سیکڑوں ڈرونز داغ چکا ہے۔ اگرچہ حملوں کی شدت ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے لیکن حزب اللہ کی جانب سے روزانہ کے حملوں کے ساتھ مل کر یہ مسلسل سلسلہ اسرائیل کے کثیر جہتی فضائی دفاعی نیٹ ورک کو تھکا رہا ہے۔