تہران (28 مارچ 2026): اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جنگ مسلط کرنے کے بعد ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے الگ ہونے پر غور شروع کر دیا۔ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں پارلیمنٹ سمیت متعدد متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر این پی ٹی سے دستبرداری کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تہران میں یہ سوچ پختہ ہوتی جا رہی ہے کہ اب اس معاہدے میں برقرار رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے خطے کے ممالک کو خبردار کر دیاعالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو ایران کی پرامن جوہری ٹیکنالوجی اور اس کے آلات تک رسائی، تحفظ اور تعاون کیلیے سازگار حالات فراہم کرنے چاہئیں۔آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی ڈھکے چھپے الفاظ میں دشمن کو ایرانی تنصیبات کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر اکساتے ہیں اور امریکا و اسرائیل بغیر کسی رکاوٹ کے ایرانی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اس معاہدے کا حصہ بنے رہنے کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔این پی ٹی سے نکلنے کا مطلب جوہری ہتھیاروں کی جانب بڑھنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کے بھیس میں امریکا اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاسوسی کے سلسلے کو روکنا ہے۔