بنکاک(25 مارچ 2026): تھائی لینڈ اور ایران کے درمیان کامیاب سفارتی رابطوں کے بعد ایک تھائی آئل ٹینکر ‘آبنائے ہرمز’ کے تزویراتی آبی راستے سے باحفاظت گزر گیا ہے۔ تھائی حکام اور جہاز کی مالک کمپنی نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ جہاز کو گزرنے کے لیے کسی قسم کی ادائیگی نہیں کرنی پڑی۔تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ سہاسک پھوانگ کیٹ کیو اور تھائی لینڈ میں ایرانی سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد ‘بنگچاک کارپوریشن’ کا ٹینکر پیر کے روز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرا۔تھائی وزیر خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایران سے تھائی جہازوں کی باحفاظت روانگی کے لیے تعاون کی درخواست کی تھی، جس پر ایرانی حکام نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے ٹرانزٹ کرنے والے جہازوں کی فہرست طلب کی تھی۔واضح رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی دنیا کی تقریباً پانچ فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع کے باعث تھائی لینڈ کو نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں کا سامنا ہے، اگرچہ حکومت نے سپلائی کی فراہمی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دو ہفتے قبل تھائی لینڈ کے ایک اور مال بردار جہاز ‘مایوری ناری’ پر اسی علاقے میں حملہ کیا گیا تھا جس سے جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔تھائی لینڈ میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ تھائی جہاز کا باحفاظت گزرنا دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔پیغام میں کہا گیا کہ ‘دوستوں کا ایک خاص مقام ہوتا ہے’ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی آگاہ کیا ہے کہ ‘غیر معاندانہ’ جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کاری کے بعد اس راستے کو استعمال کر سکتے ہیں۔